راولپنڈی : اڈیالہ جیل سے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق گردش کرتی افواہیں ایک بار پھر غلط ثابت ، ان کی بہن عظمیٰ خانم نے ملاقات کے بعد واضح کیا ہے کہ عمران خان خیریت سے ہیں اور ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ان کی بہن عظمیٰ خانم نے خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’’بھائی بالکل ٹھیک ہیں‘‘ اور صحت کے حوالے سے پھیلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
عظمیٰ خانم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ذہنی اذیت میں رکھا جا رہا ہے اور انہیں مسلسل قیدِ تنہائی کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے شکوہ کیا کہ انہیں چار ہفتوں سے کسی سے ملنے نہیں دیا گیا اور وہ ایک چھوٹے کمرے میں اکیلے رکھے گئے ہیں۔
ان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ وہ سہیل آفریدی کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں اور وہ ہر معاملے میں فرنٹ فٹ پر موجود ہیں۔ عظمیٰ خانم نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان نے کہا کہ جب بھی کوئی قانون نافذ کیا جاتا ہے تو اس کا اولین نشانہ پی ٹی آئی کو بنایا جاتا ہے، جبکہ سہیل آفریدی کے حوالے سے انہوں نے مزید پیغامات بھی دیے ہیں جو وقت آنے پر شیئر کیے جائیں گے۔
عظمیٰ خانم کے بقول عمران خان نے دو ٹوک کہا کہ ’’جو لوگ وکٹ کے دونوں جانب کھیلتے ہیں، ان کے لیے میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر دوغلا پن کسی صورت قبول نہیں ہوگا۔
ایک ماہ سے بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی، بیرسٹر گوہر
اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بھی کہا تھا کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر پارٹی اور خاندان میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق ایک ماہ سے بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی، تاہم اب عظمیٰ خانم کو ملاقات کی اجازت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں کا سلسلہ لازمی ہونا چاہیے تاکہ اہلِ خانہ اور کارکنان دونوں کو صورتِ حال کا پتا چلتا رہے۔
بیرسٹر گوہر نے شکوہ کیا کہ ملاقات کے لیے ان کا نام بھی دیا گیا تھا لیکن انہیں ابھی تک اجازت نہیں ملی، نہ ہی ان سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے۔
جمعرات کو چھ پارٹی لیڈرز کو ملاقات کی اجازت ملنی چاہئے، علیمہ خانم
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خانم نے بھی ملاقات کے بعد ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اب ہمارا واضح لائحہ عمل ہے کہ منگل کو خاندان کے چھ افراد کی ملاقات ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے ملاقاتوں کے حوالے سے واضح احکامات موجود ہیں، لہٰذا اگلے مرحلے میں جمعرات کو چھ پارٹی لیڈرز کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملنی چاہیے۔
علیمہ خانم نے کہا کہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہنا ضروری ہے، تاکہ حقائق عوام تک پہنچ سکیں اور قیادت سے رابطہ برقرار رہے۔









