غزہ میں امدادی سرگرمیاں

غزہ میں امدادی سرگرمیاں معطل ہونے کا خدشہ ہے، اقوام متحدہ کا انتباہ

غزہ میں انسانی بحران ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے فوری طور پر حالیہ عائد کردہ پابندیاں واپس نہ لیں تو غزہ میں امدادی سرگرمیاں مکمل طور پر رک سکتی ہیں، جس کے نتائج لاکھوں افراد کیلئے نہایت سنگین ہوں گے۔


اقوام متحدہ کی انسانی امور سے متعلق کنٹری ٹیم، جس میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام اور 200 سے زائد مقامی و بین الاقوامی امدادی ادارے شامل ہیں، نے ایک مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکام پر دباؤ ڈالے تاکہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی راہ میں حائل نئی رکاوٹوں کو فوری طور پر ختم کیا جا سکے۔

بیان کے مطابق تشویش کی سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کیلئے متعارف کرایا گیا نیا رجسٹریشن نظام ہے، جسے امدادی اداروں نے مبہم، سیاسی بنیادوں پر مبنی اور انسانی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ موجودہ ضوابط کے تحت درجنوں تنظیموں کو دسمبر کے اختتام تک ڈی رجسٹریشن کا سامنا ہے، جس کے بعد چند ہفتوں میں ان کی سرگرمیاں بند ہو سکتی ہیں۔

سرد موسم، محدود امداد اور بڑھتا بحران؛ غزہ کیلئے خطرے کی گھنٹی

امدادی اداروں نے واضح کیا کہ یہ تنظیمیں کسی اضافی سہولت کا حصہ نہیں بلکہ غزہ میں زندگی بچانے والے نظام کی بنیاد ہیں۔ اگر انہیں نکال دیا گیا تو پورا انسانی امدادی ڈھانچہ برقرار نہیں رہ سکے گا۔ بین الاقوامی این جی اوز اقوام متحدہ اور فلسطینی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہر سال تقریباً ایک ارب ڈالر کی امداد فراہم کرتی ہیں، مگر اس وقت کروڑوں ڈالر مالیت کا خوراک، ادویات، صفائی کا سامان اور پناہ گاہوں کا مواد غزہ سے باہر پھنسا ہوا ہے اور متاثرہ خاندانوں تک نہیں پہنچ پا رہا۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب موسم سرما کی شدت بڑھ رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید پابندیاں نہ صرف امدادی سرگرمیوں بلکہ ممکنہ جنگ بندی کو بھی غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔ امدادی اداروں کے مطابق بین الاقوامی تنظیموں کے انخلا کے اثرات نہ تو اقوام متحدہ اور نہ ہی مقامی ادارے برداشت کر سکتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے پر عائد پابندیاں امدادی نظام کو پہلے ہی شدید دباؤ میں ڈال چکی ہیں۔

کنٹری ٹیم کا کہنا ہے کہ غزہ میں بنیادی سہولیات کا بڑا حصہ بین الاقوامی امدادی تنظیموں پر منحصر ہے، جن میں فیلڈ ہسپتال، بنیادی صحت مراکز، صاف پانی اور صفائی کا نظام، ہنگامی پناہ گاہیں اور شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کا علاج شامل ہے۔ اگر یہ تنظیمیں غزہ چھوڑنے پر مجبور ہوئیں تو ہر تین میں سے ایک صحت مرکز فوری طور پر بند ہو جائے گا، جس سے ہزاروں مریض علاج سے محروم رہ جائیں گے۔

اسرائیل سے فوری اور بلا رکاوٹ امدادی ترسیل کی اجازت دینے کا مطالبہ

امدادی رہنماؤں نے بتایا کہ انہوں نے متعدد بار اسرائیلی حکام کے ساتھ یہ خدشات اٹھائے اور قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی کوشش کی، تاہم اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں امدادی اداروں کی بندش کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔

بیان کے اختتام پر اس امر پر زور دیا گیا کہ انسانی امداد تک رسائی کوئی سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک قانونی ذمہ داری ہے۔ اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری اور بلا رکاوٹ امدادی ترسیل کی اجازت دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ انسانی تنظیمیں آزاد اور محفوظ ماحول میں اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو غزہ کے شہریوں کیلئے نتائج تباہ کن ثابت ہوں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top