واشنگٹن میں بھارت کی جانب سے ملین ڈالرز کی لابنگ کے باوجود پاکستان نے واضح سفارتی برتری حاصل کی۔ برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے رپورٹ دی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں پاکستان کی حکومت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے امریکی تعلقات پہلے دور میں کشیدہ تھے اور امریکی حکومت پر الزام تھا کہ پاکستان نے رقوم لیتے ہوئے ‘جھوٹ اور فریب’ سے کام لیا اور طالبان گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں۔ تاہم، اس مرتبہ پاکستان نے امریکی حمایت حاصل کر لی۔
اخبار کے مطابق پاکستان اور بھارت دونوں نے واشنگٹن میں لابنگ کے لیے کئی ملین ڈالرز خرچ کیے اور صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کی مدد حاصل کی، لیکن اسلام آباد نے روایتی حریف بھارت پر واضح برتری حاصل کی۔
پاکستان نے دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر ٹیرف حاصل کیے اور فوج کے سربراہ اور وزیراعظم کو اوول آفس میں ملاقات کا موقع ملا، جو سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
امریکی صدر کی تعریف اور پاکستان کی حمایت
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی تعریف داعش خراسان کے دہشت گرد ثنااللہ عرف جعفر کی گرفتاری پر بھی کی۔ یہ دہشت گرد کابل ایئرپورٹ کے مرکزی ایبے گیٹ پر امریکی فوج کے انخلا کے دوران حملے میں ملوث تھا، اور پاکستان نے امریکا کی مدد کی۔
دی ٹیلیگراف نے رپورٹ کیا کہ اپریل میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 26 افراد کے ہلاک ہونے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی۔ پاکستان نے فضائی اور زمینی کارروائیوں کا بھرپور جواب دیا، لیکن صورتحال کا اختتام صدر ٹرمپ کی مداخلت سے ہوا۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں حریف ممالک کے جواب نے اپنی پوزیشن مستحکم کی، جبکہ بھارتی حکام نے امریکی ثالثی کی تردید کی۔ بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرام مسری نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے واضح کیا کہ بھارت نے ماضی میں کوئی ثالثی قبول نہیں کی اور آئندہ بھی نہیں کرے گا۔
بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی سفارتی کامیابی
اخبار میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں اپنے دوسرے صدارتی دور کے ابتدائی مہینوں کی سب سے بڑی تقریر میں پاکستان کی حکومت کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور ثنااللہ عرف جعفر کی گرفتاری کا حوالہ دیا۔
یہ اقدام پاکستان کی واشنگٹن میں مضبوط سفارتی پوزیشن کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔









