تحریر : ابو قاسم
خیبر پختونخوا کے نوجوان اور پرجوش وزیر اعلیٰ، سہیل آفریدی، تین روز کے لیے لاہور تشریف لائے۔ ان کے ہمراہ کئی پارٹی کارکنان اور صوبائی اسمبلی کے ارکان بھی تھے، جو جوش و جذبے سے بھرپور نظر آئے۔ مقصد بانی پی ٹی آئی کے نام کو اجاگر کرنا اور لاہور میں پارٹی کی سرگرمیوں کا مظاہرہ کرنا تھا۔
لاہور میں سہیل آفریدی کی آمد پر شہر مکمل طور پر بند نہیں ہوا، لیکن مختلف علاقوں میں سرگرمی محسوس کی گئی۔ میڈیا پر اس کا ذکر محدود رہا، مگر سوشل میڈیا پر کافی ردعمل دیکھنے کو ملا، جہاں صارفین نے ان کی سرگرمیوں کی تصویریں اور ویڈیوز شیئر کیں۔
بیک گراؤنڈ اور سیاسی سیاق
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے لاہور کا دورہ ایسے وقت میں کیا جب اسلام آباد میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان موجود تھے۔ پی ٹی آئی کی روایت رہی ہے کہ کسی بھی غیر ملکی مہمان کی آمد پر پارٹی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔ اسلام آباد کے بعد عرب مہمان رحیم یار خان گئے، تاہم سہیل آفریدی اور ان کے ہمراہ افراد کی سرگرمیوں کی بازگشت وہاں بھی محسوس ہوئی ہوگی۔
لاہور پر سہیل آفریدی کا سیاسی اثر مریم نواز شریف کے برابر تسلیم کیا جا سکتا ہے، اور دونوں سیاسی رہنماؤں کے شہروں پر اثرات کا موازنہ اکثر میڈیا اور عوام کے درمیان زیر بحث رہتا ہے۔ تاہم سہیل آفریدی نے لاہور اور پشاور کے تقابل پر مباحثے میں تلخ جوابات دیے، جس سے ان کی ٹیم کے ساتھیوں میں بھی کشیدگی محسوس کی گئی۔
سہیل آفریدی کی سرگرمیاں اور عوامی رابطے
وزیر اعلیٰ کے چہرے پر عمومی مسکراہٹ کے باوجود لاہور میں ان کے دورے کے دوران کشیدگی اور توجہ مرکوز رہنے کے آثار نظر آئے۔ ان کی ٹیم نے داتا صاحب کے مزار، زمان پارک، فوڈ اسٹریٹ اور دیگر مقامات کا دورہ کیا اور پارٹی کارکنان سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے مطابق کچھ رکاوٹیں بھی محسوس کی گئیں، جس پر انہوں نے گلہ بھی کیا۔
محترمہ مریم نواز شریف کی جانب سے سہیل آفریدی اور ان کے ہمراہ افراد کو لاہور میں بھرپور پروٹوکول فراہم کیا گیا، لیکن پارٹی کارکنان نے اس کا طنزیہ انداز میں تاثر لیا۔ اس دوران میڈیا اور سوشل میڈیا پر کافی تبصرے سامنے آئے، جن میں پارٹی اور رہنماؤں کی کارکردگی زیر بحث رہی۔
سیاسی اثرات اور مستقبل کی سرگرمیاں
سہیل آفریدی کا تین روزہ دورہ پی ٹی آئی کے آئندہ اقدامات، جیسے کہ 8 فروری 2026 کے ممکنہ “پہیہ جام” پروگرام، کے پیش نظر بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ لاہور میں ان کی سرگرمیوں کی ریکارڈنگ اور فوٹیج کئی میڈیا چینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئی، جس سے پارٹی کی مستقبل کی حکمت عملی پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔
دورے کے اختتام پر سوال یہ ہے کہ سہیل آفریدی کے لاہور دورے کے بعد پشاور اور لاہور کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوئے یا فاصلے بڑھے؟ یہ تین روزہ دورہ پی ٹی آئی کی 2025 کی آخری بڑی سرگرمی کے طور پر بھی یاد رکھا جائے گا۔









