چیئرمین ایف بی آر، راشد لنگڑیال، نے تاجروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جو کاروباری حضرات پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم لگانے کے قابل نہیں ہیں، انہیں ریلیف دیا جائے گا اور کسی بھی تاجر کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت چھوٹے کاروباروں کے مفاد میں اقدامات کرے گی اور کسی کو بلیک میل، جرمانے یا دکان سیل کرنے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان، کاشف چوہدری کی قیادت میں وفد نے چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات کی، جس میں ممبر آئی آر زبیر بلال اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں تاجروں کے مسائل، POS سسٹم کے نفاذ کے چیلنجز اور چھوٹے کاروباروں کے خدشات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
کاشف چوہدری نے بتایا کہ ملکی اور غیر ملکی برانڈز اور چین اسٹورز پر POS سسٹم کا نفاذ جاری ہے، جہاں کمپیوٹرائزڈ نظام، متبادل بجلی، تربیت یافتہ عملہ اور مضبوط انتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔ ان بڑے اداروں کے لیے یہ نظام اپنانا نسبتاً آسان ہے، تاہم چھوٹے کاروبار عملی اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ POS کے نفاذ سے چھوٹے کاروباروں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور ڈاکومینٹیشن، جرمانے اور دکانیں سیل کرنے جیسے اقدامات نے تاجروں میں خوف اور بے یقینی پیدا کر دی ہے۔
چھوٹے تاجروں کی مشکلات
کاشف چوہدری نے کہا کہ ایف بی آر نے برانڈز اور چین اسٹورز سے آگے بڑھ کر عام مارکیٹوں اور چھوٹی دکانوں پر بھی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ مارکیٹوں پر بڑی گاڑیوں کے قافلے اور چھاپے ایسے لگتے ہیں جیسے کسی دشمن قوت کے خلاف آپریشن ہو رہا ہو۔ اس طرز عمل نے تاجروں میں پریشانی اور ذہنی دباؤ پیدا کیا ہے، اور روزمرہ کاروبار پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پسند و ناپسند کی بنیاد پر نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں۔ بعض معاملات حل کر کے ختم کیے جاتے ہیں، لیکن جن معاملات کا حل نہیں ہوتا، ان میں دکانیں سیل اور جرمانے کیے جاتے ہیں۔ تاجروں کے لیے یہ صورتحال خوف و لاچاری پیدا کر رہی ہے اور کاروباری اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ تاجروں کے مسائل حل کرنے کے لیے ایف بی آر، تاجر تنظیموں کی مشاورت اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ یہ عمل چھوٹے تاجروں کو تحفظ اور سہولت فراہم کرے گا اور مارکیٹ میں اعتماد بحال کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو تاجر POS سسٹم لگانے کے قابل نہیں، ان پر اس کا الزام نہیں لگایا جائے گا۔ علاوہ ازیں، بلیک میلنگ، رشوت یا کرپشن کی شکایات پر متعلقہ عملہ فوری طور پر معطل کیا جائے گا۔
ایف بی آر کی یقین دہانی
چیئرمین ایف بی آر نے تاجروں کو یقین دلایا کہ کسی بھی قسم کی ہراسانی یا غیر ضروری دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس اقدام سے چھوٹے کاروبار کے مالکان مالی اور انتظامی مسائل میں ریلیف محسوس کریں گے اور انہیں قانونی تحفظ بھی حاصل ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاجروں کے تحفظ کے لیے ایف بی آر شفاف اور مشاورتی انداز اختیار کرے گا۔ تاجروں کی شکایات اور مشورے سنے جائیں گے، اور ہر قدم میں تاجر تنظیموں کا اعتماد شامل ہوگا تاکہ POS سسٹم کے نفاذ سے پیدا ہونے والی مشکلات کم کی جا سکیں۔









