اسلام آباد: (سی این پی) چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اسلام آباد میں لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے اجلاس سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ممبر ایڈمن طلعت محمود گوندل، ممبر انوائرمنٹ اسفند یار بلوچ، ڈائریکٹر آئی سی ٹی، اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر جنرل، متعلقہ افسران اور ڈی جی پی ایل آر اے کیپٹن (ر) اکرام الحق نے شرکت کی۔
اجلاس میں وفاقی دارالحکومت کے 114 موضع جات میں سے 95 موضع جات کے لینڈ ریکارڈ کی سکیننگ اور ڈیٹا انٹری مکمل ہونے کی رپورٹ پیش کی گئی، جس سے شہریوں کے لیے اراضی کے معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ 24 موضع جات کی ڈیجیٹلائزیشن کر کے نوٹیفائیڈ کر دیا گیا ہے اور ان موضع جات میں کمپیوٹرائزڈ فرد جاری کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر مزید 11 موضع جات کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جائے گا اور نوٹیفائیڈ ہونے کے بعد وہاں بھی باقاعدہ کمپیوٹرائزڈ ٹرانزیکشنز کا آغاز ہو جائے گا۔ افسران نے کہا کہ سی ڈی اے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن میں تمام شعبوں کا احاطہ کیا جا رہا ہے، جس میں اسٹیٹ منیجمنٹ ون، اسٹیٹ منیجمنٹ ٹو، اسٹیٹ افیکٹیز، بی سی ایس اور ریونیو ریکارڈ شامل ہیں۔ اس سے ادارے کے تمام ریکارڈ کی مکمل سکیننگ اور ڈیجیٹلائزیشن ممکن ہو گی۔
سی ڈی اے نے اس منصوبے کے تحت ایک سیکٹر کو ماڈل کے طور پر مکمل کرنے کی حکمت عملی بھی طے کی ہے تاکہ اسے بعد میں دیگر علاقوں میں بھی نافذ کیا جا سکے۔ اس ماڈل سیکٹر میں شہریوں کو کمپیوٹرائزڈ سروسز فراہم کی جائیں گی اور اراضی کے معاملات میں شفافیت بڑھائی جائے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ای-سٹامپ پیپر کے اجراء کے حوالے سے بھی تربیت مکمل کر لی گئی ہے اور شہریوں کے لیے اس سہولت کا باقاعدہ ٹریننگ شیڈول تیار کیا جائے گا۔
شہری سہولیات میں اضافہ اور شفافیت
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ شہریوں کی سرمایہ کاری اور جائیداد کے ریکارڈ کو محفوظ بنانا اس منصوبے کی بنیادی ترجیح ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ہر قدم پر شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھا جائے اور ڈیجیٹلائزیشن کے تمام مراحل کو شفاف بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ای-گورننس ماڈل کو اپنانا اور سروس ڈیلیوری میں بہتری لانا اس اقدام کا مقصد ہے۔ شہریوں کو جدید اور تیز سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے مکمل ہونے کے بعد شہری کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے ذریعے زمین کی تفصیلات فوری طور پر حاصل کر سکیں گے۔ اس سے اراضی کے لین دین، زمین کی خرید و فروخت اور قانونی تصدیقات میں آسانی پیدا ہوگی۔ سی ڈی اے کا منصوبہ ہے کہ شہری ہر موضع کے لیے باقاعدہ کمپیوٹرائزڈ فرد اور ٹرانزیکشن سروس تک رسائی حاصل کریں۔ اس اقدام کے بعد شہریوں کو کاغذی کارروائی اور لمبے انتظار سے نجات ملے گی۔ ڈیجیٹلائزیشن شہریوں کے لیے شفافیت اور قابل اعتماد سروس کی ضمانت فراہم کرے گی۔
افسران نے اجلاس میں بتایا کہ ای-سٹامپ پیپر کے اجراء کے نظام میں بھی شہری آسانی سے اپنے ریکارڈ کے مطابق پیپر حاصل کر سکیں گے۔ اس کے لیے ہر شہری کو تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ خود ای-سٹامپ کے عمل سے آگاہ ہو اور کسی بھی پیچیدگی یا غلطی سے بچا جا سکے۔ اس سے نہ صرف سروس کی رفتار میں اضافہ ہوگا بلکہ شہریوں کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔
چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ ہر موضع اور سیکٹر کی ڈیجیٹلائزیشن کے دوران شہریوں کے سوالات کے جوابات فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔ سی ڈی اے کے افسران نے اجلاس میں یقین دہانی کرائی کہ ڈیجیٹلائزیشن کے تمام مراحل جلد مکمل کیے جائیں گے اور ہر موضع کے لیے باقاعدہ کمپیوٹرائزڈ سسٹم نافذ کیا جائے گا۔ شہریوں کے لیے ای-سٹامپ اور ریکارڈ کی مکمل سہولیات کو یقینی بنایا جائے گا ۔









