اسلام آباد (سی این پی) پاکستان میں تعلیم اور سماجی شعبوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جہاں شرح خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی، انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی، حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی، جبکہ 96 فیصد گھروں تک موبائل یا اسمارٹ فون کی سہولت پہنچ چکی ہے۔
ادارہ شماریات نے ڈیجیٹل گھریلو جامع معاشی سروے 2024-25 جاری کر دیا ہے، جس میں ملک بھر کے 32 ہزار گھرانوں سے تفصیلی معلومات حاصل کی گئیں۔ اس سروے کا باضابطہ اجرا وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کیا۔
سروے کے مطابق اسکول سے باہر بچوں کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
ڈیجیٹل رسائی اور صحت کے اشاریوں میں بہتری
سروے میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں 96 فیصد گھرانوں میں موبائل یا اسمارٹ فون کی سہولت موجود ہے۔ قومی سطح پر گھریلو اخراجات کا سب سے بڑا حصہ خوراک پر خرچ ہوتا ہے جو 37 فیصد ہے، جبکہ حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح میں اضافہ ہو کر 73 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
توانائی کے شعبے میں بھی بہتری سامنے آئی ہے، جہاں صاف ایندھن کے استعمال کا تناسب 35 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد ہو گیا ہے، جو پائیدار ترقی کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔









