لاہور (سی این پی) — پنجاب حکومت نے نئے سال میں صوبے بھر میں ترقیاتی منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت سڑکوں، رہائشی منصوبوں، ہاسٹلز، واٹر انفراسٹرکچر اور سیوریج سسٹم کی تعمیر و مرمت نجی شعبے کی شراکت سے کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اہم شاہراہوں، زرعی و صنعتی راہداریوں اور شہری سڑکوں کی تعمیر و اپ گریڈیشن کے منصوبوں کی منظوری دی گئی، جبکہ بنیادی سہولیات کی بہتری کو ترجیحی ہدف قرار دیا گیا۔
اجلاس میں 18 اہم صوبائی سڑکوں اور زرعی، صنعتی و شہری راہداریوں کی تعمیر و ترقی کی منظوری دی گئی۔ 150 کلومیٹر طویل دیپالپور، پاکپتن، وہاڑی روڈ اور 100 کلومیٹر چراغ آباد، جھنگ، شورکوٹ روڈ کو نجی شعبے کے تعاون سے دو رویہ بنانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا، جبکہ مظفرگڑھ، علی پور، ساہیوال سمندری اور بہاولپور جھنگڑا شرقی روڈ پر اضافی کیرج وے کی تعمیر بھی نجی شراکت سے ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے پرانے واٹر انفراسٹرکچر کی بحالی، صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج سسٹم کی بہتری کے منصوبوں کو بھی PPP کے تحت مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ چکوال اور قصور میں نکاسی آب اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزر مقرر کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ سرکاری جامعات اور میڈیکل کالجز میں طلبہ کے لیے آن کیمپس رہائش کی فراہمی پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کے ذریعے سڑکوں کی تعمیر، مرمت اور دیکھ بھال کی جائے گی، جبکہ جدید ٹولنگ سسٹم کے نفاذ سے سفری سہولیات بہتر اور دورانیہ کم کیا جائے گا۔ سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ شفاف PPP ماڈل سے پنجاب میں ترقی کی رفتار تیز ہوگی، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی نے متعلقہ منصوبوں پر بریفنگ دی۔









