برکس پلس بحری مشقیں

برکس پلس بحری مشقیں، جنوبی افریقہ امریکا کے دباؤ کی زد میں؟

کیپ ٹاؤن: چین، روس اور ایران کے جنگی جہازوں کی جنوبی افریقہ میں مشترکہ بحری جنگی مشقوں میں شرکت سے امریکا کے ساتھ پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں یہ پیش رفت حساس سمجھی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقہ نے ایران کو مکمل شریک کے بجائے مبصر بنانے کی کوشش کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کو امریکا کے ممکنہ ردعمل کا بخوبی اندازہ ہے۔ حالیہ دنوں میں چینی، روسی اور ایرانی بحری جہاز سائمنز ٹاؤن نیول بیس پر لنگر انداز ہوئے۔

یہ ایک ہفتے پر مشتمل مشقیں چین کی قیادت میں ہو رہی ہیں اور ان کا تعلق برکس پلس اتحاد سے ہے، جس میں اب ایران، مصر، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ اتحاد کا مقصد مغربی طاقتوں کے سیاسی و معاشی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنا بتایا جاتا ہے۔

جنوبی افریقہ کی وزارت دفاع کے مطابق مشقوں کا مقصد بحری سلامتی، جہاز رانی کے تحفظ اور مشترکہ آپریشنز کی مشق ہے، تاہم ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایک معاشی اتحاد کا عسکری سرگرمیوں میں ملوث ہونا غیر جانبداری کے دعوے کے خلاف ہے۔

امریکا سے بڑھتا تناؤ

ماہرین کے مطابق یہ مشقیں امریکا کے ساتھ جنوبی افریقہ کے تعلقات کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن پہلے ہی اعلیٰ ٹیرف، امداد میں کمی اور سیاسی تنقید کر چکا ہے۔ امریکا جنوبی افریقہ کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جہاں لاکھوں نوکریاں امریکی سرمایہ کاری سے وابستہ ہیں۔

جنوبی افریقہ کی بڑی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک الائنس نے ان مشقوں کو غیر جانبداری کی پالیسی کے منافی قرار دیا ہے، جبکہ دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے باعث ایسے مواقع سے فائدہ اٹھانا ناگزیر ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ مشقیں عسکری نہیں بلکہ سفارتی اور معاشی مشکلات کا سبب بن سکتی ہیں، اور اگر خارجہ پالیسی میں توازن نہ رکھا گیا تو جنوبی افریقہ عالمی طاقتوں کے تصادم میں سب سے زیادہ نقصان اٹھا سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top