گوگل نے جی میل کو ایک نئی شکل دیتے ہوئے ’’اے آئی اِن باکس‘‘ متعارف کرا دیا ہے جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے ای میلز کا خلاصہ، اہم پیغامات کی نشاندہی اور روزمرہ کے کاموں کی تجاویز فراہم کرے گا۔ گوگل کے مطابق ای میل کے استعمال میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے، اسی لیے جی میل کو اب ایک ذاتی اور فعال اسسٹنٹ کے طور پر ڈیزائن کیا جا رہا ہے جو صارفین کو بڑھتے ہوئے ای میل دباؤ سے نجات دلائے گا۔
نئے اے آئی اِن باکس کو گوگل کے جدید جیمنی اے آئی ماڈل سے تقویت دی گئی ہے، جو ای میل تھریڈز کا خودکار خلاصہ تیار کرے گا۔ صارفین کو فوری جواب لکھنے، کیلنڈر ایونٹس بنانے اور اہم پیغامات کو ترجیح دینے کے بٹن فراہم کیے جائیں گے۔ یہ سسٹم صارف کی ای میل عادات کو دیکھتے ہوئے ’’وی آئی پی‘‘ افراد کی نشاندہی بھی کرے گا۔ بلز، ملاقاتوں اور اہم معاملات سے متعلق ای میلز خود بخود اوپر دکھائی جائیں گی۔
اے آئی اِن باکس میں روایتی ای میل لسٹ کے بجائے ’’اہم موضوعات‘‘ دکھائے جائیں گے۔ ہر موضوع کے ساتھ مختصر نکات کی صورت میں ای میل کا خلاصہ موجود ہوگا۔ اوپر ’’سجسٹڈ ٹو ڈوز‘‘ دیے جائیں گے جیسے ملاقات ری شیڈول کرنا یا کسی کو جواب دینا۔ اس سے صارف کو فوری فیصلہ سازی میں مدد ملے گی۔
ماہرین کا ردِعمل
گوگل کے مطابق صارفین اس اے آئی ویو کو بند بھی کر سکیں گے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ ذاتی ای میل ڈیٹا کو اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ تمام تجزیہ صارف کے کنٹرول میں اور محفوظ ماحول میں ہوگا۔ یہ فیچر پہلے منتخب صارفین کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی فیچرز کی مانگ ضرور ہے مگر ’’اے آئی تھکن‘‘ ایک حقیقی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اختیاری اور شفاف اے آئی فیچرز ہی صارفین کے لیے قابل قبول ہوتے ہیں۔ کچھ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ لوگ اب انسانوں کے بجائے اے آئی کے لیے لکھنے لگیں گے۔ ای میل مارکیٹنگ میں ’’اے آئی آپٹیمائزیشن‘‘ ایک نیا ہنر بن سکتا ہے۔









