یمن کا انسانی بحران

یمن کا انسانی بحران 2026 میں مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے: اقوامِ متحدہ

جنیوا (اے ایف پی) اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں جاری انسانی بحران 2026 میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ خوراک کی قلت بڑھ رہی ہے اور بین الاقوامی امداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں یمنی شہری شدید غذائی عدم تحفظ، بیماریوں اور اموات کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے یمن میں ریزیڈنٹ اور ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر جولین ہارنیس نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمن کی صورتحال “انتہائی تشویشناک” ہے اور خدشہ ہے کہ یہ بحران اس وقت تک عالمی توجہ حاصل نہیں کرے گا جب تک اموات اور بیماریوں کی شرح خطرناک حد تک نہ بڑھ جائے۔

گزشتہ برس یمن میں ایک کروڑ پچانوے لاکھ افراد کو انسانی امداد درکار تھی، تاہم اقوامِ متحدہ کا امدادی منصوبہ صرف 28 فیصد فنڈنگ حاصل کر سکا، جس کی مالیت 688 ملین ڈالر رہی۔ جولین ہارنیس کے مطابق اب یہ تعداد بڑھ کر دو کروڑ دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے جبکہ امدادی وسائل مزید محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

خوراک کی قلت اور وبائی امراض کا خطرہ

اقوامِ متحدہ کے مطابق خوراک کی شدید کمی خاص طور پر بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اسی طرح یمن کا صحت کا نظام، جسے گزشتہ دس برسوں سے اقوامِ متحدہ اور عالمی بینک کی معاونت حاصل رہی، اب پہلے جیسی مدد حاصل نہیں کر پائے گا۔

جولین ہارنیس نے خبردار کیا کہ یمنی عوام اس سال وبائی امراض کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہوں گے، جن میں ہیضہ، خسرہ اور پولیو شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں انسانی امدادی کوششوں سے اموات اور بیماریوں کی شرح میں بہتری آئی تھی، تاہم موجودہ حالات میں یہ پیش رفت برقرار رکھنا ممکن نظر نہیں آتا۔

عالمی امداد میں کمی اور تنازع کی جڑیں

اقوامِ متحدہ کے عہدیدار کے مطابق امریکا جو کئی برس تک یمن کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ رہا، اب اس کردار میں نمایاں کمی کر چکا ہے، جبکہ دیگر ڈونر ممالک بھی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور خلیجی ممالک مستقبل میں یمن کے لیے امداد میں اضافہ کریں گے۔

جولین ہارنیس نے واضح کیا کہ یمن کا انسانی بحران براہِ راست جاری تنازع کے حل نہ ہونے، معیشت کے انہدام، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان اور بنیادی سہولیات میں خلل کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یمن میں بحران پورے جزیرۂ عرب کے لیے خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ وبائی امراض سرحدوں کو نہیں مانتے۔

اقوامِ متحدہ کی سرگرمیاں محدود

اقوامِ متحدہ کے مطابق اس وقت یمن میں اس کے 73 اہلکار حراست میں ہیں، جن میں سے بعض 2021 سے قید ہیں، جبکہ دفاتر پر قبضوں کے باعث امدادی کارروائیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ جولین ہارنیس نے کہا کہ “ایسے حالات میں ہماری انسانی امدادی صلاحیت کا متاثر ہونا نہایت خوفناک ہے۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ یمن میں بچے جانیں گنوا رہے ہیں اور اگر فوری اور مؤثر عالمی ردعمل سامنے نہ آیا تو آنے والا سال یمن کے لیے مزید تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

1 thought on “یمن کا انسانی بحران 2026 میں مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے: اقوامِ متحدہ”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top