واشنگٹن / تہران (ویب ڈیسک) امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ کی بندش اور اطلاعات پر سخت کنٹرول کے باعث اصل ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق منگل کو جاری کردہ تازہ اعداد و شمار میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 4,029 بتائی گئی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان میں 3,786 مظاہرین، 180 سکیورٹی اہلکار، 28 بچے اور 35 ایسے افراد شامل ہیں جو مظاہروں میں شریک نہیں تھے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار مستند نیٹ ورک کے ذریعے تصدیق کے بعد مرتب کیے گئے ہیں۔
ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران ایران میں ہونے والے مظاہروں اور بدامنی کے واقعات میں درست معلومات فراہم کرتی رہی ہے، کیونکہ اس کے پاس ملک کے اندر سرگرم کارکنوں کا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے جو ہر ہلاکت کی آزادانہ تصدیق کرتا ہے۔
تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جیسے جیسے ایران سے معلومات باہر آتی رہیں گی، ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش اور میڈیا پر پابندیاں حقائق کو دنیا کے سامنے آنے سے روکنے کی کوشش ہیں۔
ایرانی قیادت کا اعتراف اور امریکا پر الزام
ایرانی حکام کی جانب سے اب تک ہلاکتوں کی کوئی واضح تعداد جاری نہیں کی گئی، تاہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ حالیہ احتجاجی تحریک کے دوران “چند ہزار” افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان مظاہروں اور ہلاکتوں کا الزام امریکا پر عائد کیا۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ مظاہروں کے دوران 26 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تنظیم کے مطابق ایرانی حکام کے بیانات سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ زیرِ حراست بعض افراد کو سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری یہ کریک ڈاؤن نہ صرف شہری آزادیوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمیں ایران پر زور دے رہی ہیں کہ وہ طاقت کے استعمال سے باز رہے اور مظاہرین کے بنیادی حقوق کا احترام کرے۔
امریکا ایران کشیدگی برقرار، عالمی سطح پر ردعمل
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ اسی تناظر میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب کی دعوت واپس لے لی گئی۔ فورم انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران میں حالیہ ہفتوں کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں کے باعث اس سال ایرانی حکومت کی نمائندگی مناسب نہیں۔
ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق اگرچہ عباس عراقچی کو گزشتہ خزاں میں مدعو کیا گیا تھا، تاہم ایران میں عام شہریوں کی جانوں کے ضیاع نے اس فیصلے پر نظرثانی کو ناگزیر بنا دیا۔ اس اقدام کو عالمی سطح پر ایران کے لیے ایک سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
عباس عراقچی نے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم نے ان کی شرکت “جھوٹ اور اسرائیل و امریکا میں موجود حامیوں کے سیاسی دباؤ” پر منسوخ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈا عالمی فورمز پر اس کی آواز دبانے کی کوشش ہے۔
ایران میں صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں احتجاجی تحریک، سخت سکیورٹی اقدامات، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور انٹرنیٹ کی بندش آنے والے دنوں میں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ اگر عالمی دباؤ نہ بڑھایا گیا تو ہلاکتوں اور سزاؤں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور شہریوں کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کرے، تاکہ مزید خونریزی کو روکا جا سکے۔









