واشنگٹن / پیرس / تل ابیب (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے کی نگرانی کیلئے قائم کیے جانے والے نئے ادارے ’’بورڈ آف پیس‘‘ نے عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق امریکا نے اسرائیل کو اس بورڈ میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی ہے، تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس پیشکش کو قبول کیا ہے یا نہیں۔
اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ معاملہ پسِ پردہ سفارتی نوعیت کا ہے، اسی لیے تفصیلات سامنے نہیں لائی جا رہیں۔ دوسری جانب فرانس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس مرحلے پر بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا، حالانکہ اسے بھی باضابطہ دعوت موصول ہو چکی ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق روس، بیلاروس، سلووینیا، تھائی لینڈ اور یورپی یونین کے ایگزیکٹو ادارے کو بھی اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔ تاہم بورڈ کے ارکان کی حتمی تعداد، دائرہ اختیار اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار سے متعلق تاحال شدید ابہام پایا جاتا ہے۔
نیا عالمی فورم یا اقوامِ متحدہ کا متبادل؟
دعوت ناموں میں صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ جملہ شامل کیا گیا ہے کہ بورڈ آف پیس “عالمی تنازعات کے حل کیلئے ایک جرات مندانہ اور نیا راستہ اختیار کرے گا”، جس پر مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا متبادل یا حریف بن سکتا ہے۔
خاص طور پر اس بات پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ غزہ جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کرنے والے اس بورڈ میں اسرائیل کا کردار کیا ہوگا، جبکہ فیصلہ سازی میں ایسے ممالک کو بھی شامل کیا جا رہا ہے جو آپس میں سخت اختلافات رکھتے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے قریبی عہدیدار نے کہا کہ فرانس نے فی الحال شمولیت سے گریز کیا ہے کیونکہ یہ معاملہ اقوامِ متحدہ کے اصولوں اور اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “کوئی بھی میکرون کو نہیں چاہتا کیونکہ وہ جلد عہدے سے باہر ہونے والے ہیں۔”
صدر ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ فرانس کی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف عائد کر دیں گے تو “وہ خود ہی شامل ہو جائیں گے”، تاہم ساتھ یہ بھی کہا کہ فرانس کی شمولیت لازمی نہیں۔
عرب دنیا اور دیگر ممالک کی شمولیت
مراکش کے فرمانروا شاہ محمد ششم نے پیر کے روز بورڈ آف پیس میں شمولیت قبول کر لی، جس کے بعد وہ اس بورڈ میں شامل ہونے والے پہلے عرب رہنما بن گئے۔ اس کے علاوہ ویتنام، قازقستان، ہنگری اور ارجنٹائن بھی بورڈ میں شامل ہونے والے ممالک میں شامل ہیں۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بھی اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، جس کی تصدیق خود صدر ٹرمپ نے کی۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق روس اس دعوت کی تفصیلات کا جائزہ لے رہا ہے اور امریکا سے مزید وضاحت طلب کی جائے گی۔
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بھی شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ دعوت موصول ہو چکی ہے اور اس پر غور جاری ہے۔ یورپی کمیشن کے ترجمان اولوف گل نے بتایا کہ کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن دیگر یورپی رہنماؤں سے غزہ کی صورتحال پر مشاورت کریں گی، تاہم یورپی یونین کی حتمی پوزیشن واضح نہیں۔
اسرائیل کے اندر شدید اختلافات
اسرائیل میں بورڈ آف پیس پر شدید سیاسی اختلاف سامنے آ گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ اور انتہائی دائیں بازو کے رہنما بیزلیل سموٹریچ نے اس بورڈ کو اسرائیل کیلئے “نقصان دہ معاہدہ” قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سموٹریچ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو یہ واضح کر دینا چاہیے کہ ان کا منصوبہ ریاستِ اسرائیل کیلئے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا مستقبل اسرائیل کے مستقبل سے براہِ راست جڑا ہے اور اسرائیل وہاں فوجی انتظامیہ نافذ کرے گا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر حماس نے غیر مسلح ہونے اور جلاوطنی پر مبنی “مختصر الٹی میٹم” قبول نہ کیا تو اسرائیل کو مکمل فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنی چاہیے۔
دوسری جانب وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اگرچہ امریکا کے ساتھ غزہ کے اگلے مرحلے سے متعلق مشاورتی کمیٹی کی تشکیل پر اختلافات موجود ہیں، تاہم اس سے ان کے اور صدر ٹرمپ کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ غزہ میں ترک یا قطری فوجیوں کی تعیناتی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
حتمی فہرست جلد متوقع
نیتن یاہو کے دفتر نے پہلے کہا تھا کہ بورڈ آف پیس کے تحت قائم ہونے والا ایگزیکٹو بورڈ اسرائیلی حکومت سے مشاورت کے بغیر تشکیل دیا گیا ہے اور یہ اسرائیلی پالیسی کے خلاف ہے، تاہم اس پر تفصیلی اعتراضات بیان نہیں کیے گئے۔
امریکی حکام کے مطابق بورڈ آف پیس کے ارکان کی حتمی فہرست آئندہ چند دنوں میں جاری کی جائے گی، جس کا امکان ہے کہ اعلان سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے دوران کیا جائے۔









