نیویارک (سی این پی)
اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کا عالمی بحران اب عارضی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی دیوالیہ پن کی کیفیت اختیار کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی نئی فلیگ شپ رپورٹ کے مطابق کئی دہائیوں سے پانی کی قلت پر دی جانے والی تنبیہات اب حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ متعدد خطوں میں پانی کی کمی مستقل شکل اختیار کر چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے آبی نظام اب اپنی پرانی حالت میں واپس جانے کے قابل نہیں رہے۔
اقوام متحدہ کے محققین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں پانی کی قلت کو عارضی بحران سمجھا جاتا تھا۔ اس تصور کے تحت یہ خیال کیا جاتا تھا کہ کچھ عرصے بعد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ تاہم موجودہ حالات میں یہ امکان ختم ہوتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کئی خطوں میں پانی کی قلت مستقل بنیادوں پر موجود ہے۔
یو این یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کے ڈائریکٹر کاویہ مدنی نے کہا ہے کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں پانی کے حوالے سے معمول کی صورتحال ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق اب پانی کے بحران کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔
کاویہ مدنی نے پریس بریفنگ میں واضح کیا کہ اس رپورٹ کا مقصد مایوسی پھیلانا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل مقصد عملی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ناکامیوں کا اعتراف ضروری ہے۔ تاکہ مستقبل میں پانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
عالمی آبی نظام اور معمول کی صورتحال کا خاتمہ
انہوں نے مزید کہا کہ رپورٹ میں پانی کی قلت سے نمٹنے میں مکمل ناکامی کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔ تاہم صورتحال دیوالیہ پن یا اس کے قریب ضرور پہنچ چکی ہے۔ یہ بحران تجارت، نقل مکانی اور جغرافیائی سیاسی انحصار کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اس نے عالمی خطرات کے منظرنامے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔
کاویہ مدنی کے مطابق اس بحران کے اثرات سب سے زیادہ کمزور طبقات پر پڑ رہے ہیں۔ ان میں چھوٹے کسان، مقامی آبادی اور کم آمدنی والے شہری شامل ہیں۔ خواتین اور نوجوان بھی اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ جبکہ پانی کے زیادہ استعمال کے فوائد طاقتور عناصر سمیٹ لیتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پانی کے دیوالیہ پن سے مراد حد سے زیادہ پانی نکالنا اور آلودہ کرنا ہے۔ اس میں قابل تجدید پانی کے قدرتی نظام کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ناقابل واپسی صورتحال سے مراد ویٹ لینڈز اور جھیلوں کو پہنچنے والا نقصان ہے۔ جو آبی نظام کی بحالی کو ناممکن بنا دیتا ہے۔
کاویہ مدنی نے کہا کہ پانی کا دیوالیہ پن بحران کے خاتمے کی علامت نہیں۔ بلکہ یہ ایک منظم بحالی کے عمل کا آغاز ہے۔ اس عمل میں پانی کے ضیاع کو روکنا شامل ہے۔ ساتھ ہی ضروری خدمات کے تحفظ اور تعمیر نو میں سرمایہ کاری پر زور دیا گیا ہے۔









