کولکتہ (سی این پی) بھارتی ریاست مغربی بنگال میں نِپاہ وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد حکام نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیشِ نظر تقریباً 100 افراد کو گھروں میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے، جبکہ ایک مریض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور طبی عملے کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ صورتحال کے تناظر میں تھائی لینڈ نے بھی احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے مغربی بنگال سے آنے والے مسافروں کے لیے بڑے ہوائی اڈوں پر متعدی امراض کی اسکریننگ شروع کر دی ہے۔
حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور کسی بھی مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طور پر طبی مراکز سے رجوع کریں۔
نِپاہ وائرس کیا ہے اور کتنا خطرناک؟
نِپاہ وائرس ایک انتہائی خطرناک زونوٹک بیماری ہے جو بنیادی طور پر چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، جبکہ بعض صورتوں میں انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق اس وائرس کی اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو اسے دنیا کے مہلک ترین وائرسز میں شامل کرتی ہے۔
یہ وائرس پہلی بار 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا تھا، جہاں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ بعد ازاں بنگلہ دیش اور بھارت (خصوصاً کیرالہ) میں اس کے متعدد مہلک پھیلاؤ رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نِپاہ وائرس کے لیے تاحال کوئی مخصوص علاج یا منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں، جس کے باعث احتیاطی تدابیر ہی واحد مؤثر دفاع سمجھی جاتی ہیں۔









