کراچی: (کے این ڈی نیوز) عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید بے یقینی، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کا محفوظ اثاثوں کی جانب رجحان سونے اور چاندی کی قیمتوں کو نئی تاریخی بلندیوں تک لے گیا ہے۔ عالمی اور مقامی سطح پر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے پاکستان کی معاشی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔ ماہرین کے مطابق عالمی جیو پولیٹیکل کشیدگی، مہنگائی کے دباؤ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے رجحانات کے باعث سونے کی قیمت میں یہ اضافہ ریکارڈ سطح پر پہنچا ہے، جس کے اثرات براہِ راست مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔
ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فی تولہ سونے کی قیمت میں 21 ہزار 100 روپے کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر پہلی بار 5 لاکھ 51 ہزار 662 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جو اب تک کی سب سے زیادہ قیمت تصور کی جا رہی ہے۔
اسی طرح 10 گرام 24 قیراط سونے کی قیمت میں 18 ہزار 90 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت پہلی بار 4 لاکھ 72 ہزار 961 روپے کی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی۔ مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ زیورات کے شعبے اور عام خریداروں پر اس اضافے کے واضح اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں تیزی
سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ملک بھر میں 24 قیراط فی تولہ چاندی 271 روپے مہنگی ہو کر پہلی بار 11 ہزار 911 روپے کی بلند ترین سطح پر فروخت ہونے لگی ہے، جو مقامی تاریخ کا نیا ریکارڈ ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں نے نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ عالمی منڈی میں فی اونس سونا 211 ڈالر کے بڑے اضافے کے بعد پہلی بار 5 ہزار 293 ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح فی اونس چاندی کی قیمت میں 2 ڈالر 71 سینٹس کا اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 114 ڈالر 36 سینٹس تک جا پہنچی۔









