بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشتگردوں نے نہتے بلوچ مزدور خاندانوں پر سفاکانہ حملہ کر کے 11 معصوم شہریوں کو شہید کر دیا، جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر جوابی آپریشن شروع کیے، جن کے نتیجے میں آج مختلف علاقوں میں 67 دہشتگرد ہلاک کیے گئے، جبکہ گزشتہ دو روز کے دوران مجموعی طور پر 108 دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران ملک کے دفاع میں 10 بہادر جوان شہادت کا رتبہ پا گئے۔
بلوچستان کے شہر گوادر میں دہشتگردوں نے رات کی تاریکی میں بلوچ مزدور خاندانوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 11 معصوم شہری شہید ہو گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شہداء میں 5 مرد، 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں، جن کا تعلق مختلف علاقوں سے تھا اور وہ روزگار کی تلاش میں گوادر آئے ہوئے تھے۔ ابتدائی طور پر شہادتوں کی تعداد کم بتائی گئی، تاہم تصدیق کے بعد یہ تعداد 11 ہو گئی۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بلوچستان میں امن و ترقی کو سبوتاژ کرنے کی ایک منظم کوشش ہے، جس کے پیچھے بھارتی ایما پر سرگرم فتنہ الہندوستان کارفرما ہے۔ واقعے کے بعد گوادر اور ملحقہ علاقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ عوام نے دہشتگردی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سکیورٹی فورسز کی فوری کارروائیاں
حملے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے گوادر اور اس کے گردونواح میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس گھناؤنے واقعے میں ملوث تمام دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جبکہ علاقے میں مزید ممکنہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آج پنجگور میں فتنہ الہندوستان کے خلاف جاری بڑے آپریشن کے دوران 67 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن میں دہشتگردوں کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دشمن کے متعدد نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا۔
دو روز میں 41 دہشتگرد مارے گئے
ذرائع کے مطابق اس سے قبل گزشتہ دو روز کے دوران پنجگور اور شعبان کے علاقوں میں بھی بھرپور آپریشنز کیے گئے تھے، جن میں 41 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ یوں آج اور گزشتہ کارروائیوں کو ملا کر بلوچستان میں مجموعی طور پر 108 دہشتگردوں کو انجام تک پہنچایا جا چکا ہے۔
ان آپریشنز کے دوران دشمن کی بربریت کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے 10 بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جن کی قربانی کو قوم سلام پیش کرتی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگرد عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے تعاقبی آپریشنز بدستور جاری ہیں، جن کے دوران مزید ہلاکتوں اور نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ فورسز نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان خراب کرنے والے عناصر کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔









