بیجنگ: چین میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع ایک اہم سنگِ میل عبور کر گئی ہے جہاں ملک بھر کے تمام قصبوں اور 95 فیصد دیہی علاقوں میں 5جی نیٹ ورک کی سہولت دستیاب ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت کو زرعی اور دیہی جدید کاری کے لیے ایک مضبوط بنیاد قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دور دراز علاقوں کو قومی ڈیجیٹل دھارے سے جوڑنے میں نمایاں مدد ملی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران دیہی اور پسماندہ علاقوں میں مواصلاتی سہولیات کی تعمیر کو تیز کیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد دیہات میں فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھایا گیا، جبکہ تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار 4جی اور 5جی بیس اسٹیشن قائم کیے گئے۔
دیہی علاقوں میں براڈبینڈ استعمال کرنے والوں کی تعداد 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ انٹرنیٹ کی مجموعی شرحِ نفوذ 69 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اس توسیع نے نہ صرف روزمرہ مواصلات کو آسان بنایا بلکہ تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں میں بھی ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی کو ممکن بنایا ہے۔
ملک بھر کے تمام پرائمری اور سیکنڈری سکولوں میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ ٹیلی میڈیسن سروس نیٹ ورک تمام شہروں اور کاونٹیوں تک پھیل چکا ہے، جس کے باعث دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
چینی حکام کے مطابق پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں نئی بنیادی تنصیبات کی تعمیر کو مزید تیز کیا جائے گا، تاکہ زراعت، دیہی معیشت اور کسانوں کو جدید نیٹ ورک صلاحیت اور ہمہ گیر ٹیلی کمیونیکیشن خدمات فراہم کی جا سکیں اور ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔









