تحریر : ڈاکٹر تصدق حسین قریشی
پاکستانی مارکیٹ میں سونا صرف ایک دھات نہیں، بلکہ خوف، غیر یقینی اور مستقبل کے تحفظ کا پیمانہ بن چکا ہے۔ جیسے ہی روپے کی قدر میں کمی محسوس ہوتی ہے، لوگ اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے کی طرف بڑھتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب سونے کی قیمت (Gold Rate Pakistan) محض ایک عدد نہیں رہتی بلکہ معاشرتی اور اقتصادی نفسیات کی عکاسی کرتی ہے۔
گذشتہ ہفتوں میں سونے کی قیمت میں جو اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، اس نے واضح کر دیا کہ مارکیٹ کا اصل محرک صرف طلب و رسد نہیں بلکہ نفسیاتی اور معاشی دباؤ بھی ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی بلین مارکیٹس میں تیزی یا کمی کے اثرات روزانہ کے خریداروں تک فوراً پہنچتے ہیں۔
روپے کی کمزوری اور سونے کی قیمت
پاکستانی روپے کی قدر سونے کی قیمتوں کا سب سے بڑا محرک ہے۔ جب ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے، تو مارکیٹ میں خوف بڑھتا ہے اور سرمایہ کار سونے کو حفاظتی پناہ گاہ کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ عام خریدار اور بڑے سرمایہ کار دونوں میں مشترک ہے، اگرچہ مقصد مختلف ہے: ایک اپنی بچت بچاتا ہے، دوسرا بڑے پیمانے پر منافع کی حفاظت کرتا ہے۔
جیولری یا سرمایہ کاری؟
ایک دلچسپ تضاد یہ ہے کہ جب سونا مہنگا ہوتا ہے تو جیولری کی فروخت کم ہو جاتی ہے، مگر سرمایہ کاری کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ شادیوں کے سیزن میں لوگ سونا وزن کم کروا لیتے ہیں مگر سرمایہ کاری کے لیے نہیں چھوڑتے۔ یہی رویہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں سونا صرف زیور نہیں بلکہ اعتماد کا متبادل بن چکا ہے۔
مارکیٹ کی نفسیات اور خریدار رویہ
پاکستانی گولڈ مارکیٹ جذباتی فیصلوں سے چلتی ہے۔ ایک افواہ یا کسی بڑے تاجر کی خریداری پوری مارکیٹ کا رخ بدل دیتی ہے۔ قیمتیں کبھی ایک دن میں آسمان کو چھونے لگتی ہیں اور کبھی اچانک زمین پر آ گرتی ہیں۔ اس اتار چڑھاؤ کا سب سے بڑا نقصان چھوٹے سرمایہ کاروں کو ہوتا ہے، جو عروج پر خریدتے اور کمی پر گھبرا کر بیچ دیتے ہیں۔
سرمایہ کاری کے مشورے
ماہرین کا کہنا ہے کہ “ہر ایک ہی ٹوکری میں سرمایہ مت رکھیں۔” سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ Diversificationکے اصول پر عمل کریں اور بلین مارکیٹ کے رجحانات کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل گولڈ (Gold ETFs) اور دیگر محفوظ اختیارات پر بھی غور کریں۔
جیولری مارکیٹ کے اثرات
پاکستانی شہری سونا زیور کے طور پر بھی خریدتے ہیں، مگر سرمایہ کاری کے رجحانات کا اثر جیولری مارکیٹ پر بھی پڑتا ہے۔ مارکیٹ میں قیمت بڑھنے پر زیور کی فروخت سست ہو جاتی ہے، مگر سرمایہ کاری کی خریداری جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد مارکیٹ کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستانی سونے کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال صرف قیمت کی نہیں بلکہ اعتماد کی بھی عکاس ہے۔ جب تک روپے کی قدر مستحکم نہیں ہوگی، مارکیٹ میں شفافیت نہیں ہوگی اور معاشی پالیسی واضح نہیں ہوگی، سونا اسی طرح بے قابو رہے گا۔ مسئلہ سونے کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔
عالمی معیشت اور سرمایہ کاروں کا خوف
دنیا کی سب سے بڑی معیشتیں، امریکا اور یورپ، اس وقت ایک ایسے موڑ پر ہیں جہاں سرمایہ کاری کے فیصلے صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ خوف اور غیر یقینی کیفیت سے بھی جڑے ہیں۔ یہاں سونے کی عالمی قیمت (International Gold Price) ایک ایسا آئینہ ہے جو مستقبل کے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔
امریکا: اسٹاک اور سونے کی کشمکش
امریکا میں اسٹاک مارکیٹس دہائیوں سے دولت پیدا کرنے کا سب سے مضبوط ذریعہ سمجھی جاتی ہیں، مگر حالیہ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ سرمایہ کار Risk Hedgingکے لیے سونے کی طرف واپس آ رہے ہیں۔ فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی پالیسی، شرح سود میں تبدیلی اور ڈالر کی قوت نے سرمایہ کاروں کی نفسیات پر واضح اثر ڈالا ہے۔
S&P 500 اور Nasdaq کی غیر یقینی کارکردگی کے دوران، Gold ETFs اور Physical Gold میں سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سرمایہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ تاریخی اعتبار کے لحاظ سے سونا سب سے محفوظ اثاثہ ہے۔
یورپ: افراط زر اور توانائی بحران
یورپ میں صورتحال کچھ زیادہ پیچیدہ ہے۔ جرمنی، اٹلی اور فرانس میں بڑھتی افراطِ زر (Eurozone Inflation) اور توانائی کی بڑھتی قیمتیں سرمایہ کاروں کو محتاط کر رہی ہیں۔ یہاں سونا محض سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک دفاعی حکمت عملی بن چکا ہے۔
یورپی سرمایہ کار Physical Gold اور Silver (چاندی) دونوں خرید رہے ہیں، کیونکہ صنعتی چاندی (Silver) بھی توانائی اور سولر ٹیکنالوجی میں بڑھتی مانگ کی وجہ سے محفوظ اور منافع بخش اثاثہ بن گئی ہے۔
صنعتی اور سرمایہ کاری کا امتزاج
چاندی (Silver) امریکا اور یورپ میں صرف زیور یا سرمایہ کاری کی چیز نہیں رہی۔ سولر پینلز، الیکٹرانکس اور ٹیکنالوجی میں بڑھتی مانگ کی وجہ سے یہ صنعتی ضروریات کا حصہ بھی ہے۔ سرمایہ کار اسے اس لیے خریدتے ہیں تاکہ Portfolio Diversification کے ساتھ ساتھ مستقبل کی ٹیکنالوجی سے بھی فائدہ ہو۔
بٹ کوائن اور ڈیجیٹل کرپٹو کا امتحان
Bitcoin (بٹ کوائن) کو کئی ماہرین نے سونے کا ڈیجیٹل متبادل کہا، مگر 2025-2026 میں مسلسل کمی نے یہ واضح کر دیا کہ غیر یقینی وقت میں سرمایہ کار تاریخ پر بھروسہ کرتے ہیں، افسانوں پر نہیں اور تاریخ میں سونا ہمیشہ سے ایک محفوظ اثاثہ رہا ہے۔
عالمی سرمایہ کاری کی نفسیات
امریکا اور یورپ کے سرمایہ کار آج بھی سوال کرتے ہیں، کیا اسٹاک مارکیٹ مزید مستحکم رہے گی؟ کیا افراطِ زر اور توانائی کے بحران سونے کی قیمت بڑھائیں گے۔ یہ سوالات ہی قیمتوں کی غیر یقینی حرکت کی بنیادی وجہ ہیں۔
عالمی معیشتیں بھی غیر یقینی کا شکار ہیں، سونا اور چاندی نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ دفاعی حکمت عملی ہیں، سرمایہ کار، چاہے امریکہ کے ہوں یا یورپ، تاریخ اور تجربے پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ بات واضچ ہے کہ عالمی بحران میں سرمایہ کار سونے کی طرف مڑتے ہیں اور اس کی اہمیت ہر دور میں برقرار رہتی ہے۔
امریکا اور یورپ کی منڈیوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ سونا اور چاندی اب بھی عالمی معیشت کی بنیادوں میں شامل ہیں۔چاہے بات ڈالر کی کمزوری ہو، فیڈرل ریزرو کی پالیسی ہو یا بٹ کوائن کی گراوٹ آخرکار سرمایہ وہیں جاتا ہے جہاں اعتماد ہو اور آج کے غیر یقینی دور میں وہ اعتماد اب بھی سونے کی عالمی قیمت میں ہی جھلکتا ہے۔









