چینی صدر شی جن پنگ کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو

ٹرمپ اورچینی صدر کا رابطہ، یوکرین جنگ، ایران اور تائیوان زیرِ بحث

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں عالمی سیاست، علاقائی تنازعات اور دوطرفہ معاشی تعاون سے متعلق اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس بات چیت کو موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور تائیوان کا معاملہ عالمی طاقتوں کے لیے حساس ترین موضوعات بن چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے رابطے کے بعد جاری بیان میں کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی گفتگو انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز رہی۔ انہوں نے کہا کہ چینی صدر کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات مضبوط اور خوشگوار ہیں، اور یہی تعلقات مستقبل میں امریکا اور چین کے درمیان بہتر سیاسی اور تجارتی نتائج کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اے پی پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس گفتگو میں تجارت، فوجی امور اور اپریل میں چین کے متوقع دورے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

ٹرمپ نے بتایا کہ بات چیت کے دوران تائیوان، روس یوکرین جنگ اور ایران کی موجودہ صورتحال زیرِ بحث آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی جانب سے امریکا سے توانائی وسائل کی ممکنہ خریداری پر بھی گفتگو ہوئی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔ امریکی صدر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کے دورِ صدارت میں امریکا چین تعلقات میں مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔

تجارتی تعاون اور زرعی مصنوعات پر بات چیت

امریکی صدر نے مزید کہا کہ چین کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری بڑھانے کے امکانات پر بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ خاص طور پر سویا بین کی خریداری کو 20 ملین ٹن تک بڑھانے کے امکانات زیرِ غور آئے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تجارتی تعاون کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں، کیونکہ مضبوط معاشی روابط دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر شی جن پنگ نے گفتگو کے دوران کہا کہ چین امریکا کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا اور چین باہمی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے مناسب انداز میں حل کر سکتے ہیں۔

چینی صدر نے واضح کیا کہ تائیوان کا مسئلہ امریکا چین تعلقات کے لیے انتہائی حساس اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے کے معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے۔ صدر شی کا کہنا تھا کہ چین امریکا تعلقات کو مزید بہتر بنانے اور بڑے اقدامات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ باہمی احترام اور بنیادی مفادات کا خیال رکھا جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top