غزہ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی بمباری کے تازہ سلسلے میں مزید 13 فلسطینی شہید جبکہ بیسیوں زخمی ہو گئے۔ طبی ذرائع کے مطابق حملے مختلف علاقوں میں کیے گئے جن میں بے گھر افراد کے کیمپ بھی شامل ہیں۔ حالیہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کی توقع کی جا رہی تھی، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اسرائیلی فوج نے بے گھر فلسطینیوں کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا جہاں کم از کم 6 افراد شہید ہوئے۔ امدادی ٹیموں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ زخمیوں کو قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا۔
ایک اور فضائی حملہ جنوبی علاقے خان یونس میں کیا گیا، جس کے نتیجے میں 5 فلسطینی جان کی بازی ہار گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد رہائشی اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
شمالی غزہ میں بھی بمباری کے نتیجے میں مزید 2 افراد شہید ہوئے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنائے جانے سے شہری آبادی شدید متاثر ہو رہی ہے اور طبی سہولیات پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
جنگ بندی کی امیدوں کے دوران حملے
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس سے قبل جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کی امید ظاہر کی جا رہی تھی۔ مبصرین کے مطابق تازہ بمباری نے امن کوششوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی ممکنہ پیش رفت سے قبل اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے شہری علاقوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور متاثرین کے لیے امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے۔
حالیہ پیش رفت نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ عالمی برادری کی تشویش میں بھی اضافہ کیا ہے۔ صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر آئندہ چند روز خطے کے لیے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔









