برطانوی شاہی خاندان کی سابق رکن Sarah Ferguson سارہ فرگوسن نے مبینہ طور پر اپنے ناول کو ٹی وی یا فلمی منصوبے میں تبدیل کرانے کیلئے دوستوں سے حمایت طلب کی۔ ذرائع کے مطابق وہ چاہتی تھیں کہ ان کا 2021 کا رومانوی ناول “ہارٹ فار اے کمپاس” بڑے نیٹ ورکس اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز تک پہنچایا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ اس منصوبے کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتی تھیں۔
ذرائع کے مطابق سارہ فرگوسن نے اپنے جاننے والوں سے کہا کہ وہ میڈیا کمپنیوں اور کاروباری اداروں میں ان کے حق میں سفارش کریں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ منصوبہ “بریجرٹن” اور “دی کراؤن” کے امتزاج جیسی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم مختلف اداروں کی جانب سے محتاط رویہ اپنایا گیا اور 2023 میں پیش کیا گیا منصوبہ خاطر خواہ پیش رفت حاصل نہ کر سکا۔
قانونی تنازعات اور بڑھتی تشویش
رپورٹس کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں ان تنازعات سے پہلے کی ہیں جن میں ان کے سابق شوہر Prince Andrew کا نام سامنے آیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ قانونی معاملات کے بعد سارہ فرگوسن شدید دباؤ میں ہیں۔ کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری فائلوں میں مرحوم سرمایہ کار Jeffrey Epstein سے متعلق دستاویزات میں بھی ان کا ذکر آیا۔ تاہم سارہ فرگوسن نے کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے اور اپنے نمائندے کے ذریعے کہا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں قیام
میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہی رہائش گاہ چھوڑنے کے بعد سارہ فرگوسن کو United Arab Emirates میں دیکھا گیا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ قانونی پیچیدگیوں سے بچنے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیلئے بیرون ملک مقیم ہیں۔ پولیس ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ برطانیہ واپس آئیں تو صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال انہیں مالی اور جذباتی حمایت حاصل ہے، مگر وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ سارہ فرگوسن مسلسل اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتی آئی ہیں اور کہتی ہیں کہ انہیں غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔









