ہائی اوکٹین ایندھن پر لیوی میں بڑا اضافہ، high-octane-fuel-levy-increase-pakistan

ہائی اوکٹین ایندھن پر لیوی میں بڑا اضافہ، حکومت کا نیا فیصلہ سامنے آ گیا

ہائی اوکٹین ایندھن پر لیوی میں بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اب مہنگی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن پر اضافی بوجھ ڈالا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد معاشی دباؤ کو کم کرتے ہوئے بوجھ کو امیر طبقے کی طرف منتقل کرنا ہے، جبکہ عام صارفین اور متوسط طبقے کو ریلیف دینے کی حکمت عملی بھی تیار کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں ایندھن کی قیمتوں اور عوامی ریلیف سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ہائی اوکٹین ایندھن پر لیوی میں نمایاں اضافہ کرنے کی منظوری دی گئی۔

لیوی میں بڑا اضافہ، قیمت 300 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی

نئی پالیسی کے تحت ہائی اوکٹین ایندھن پر پہلے سے عائد 100 روپے فی لیٹر لیوی میں مزید 200 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی لیوی 300 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ہائی اوکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافہ (high-octane fuel levy increase) بنیادی طور پر لگژری گاڑیوں کے استعمال کنندگان کو متاثر کرے گا۔

حکومت کے مطابق اس اضافے کا اثر پبلک ٹرانسپورٹ یا ہوائی سفر کے کرایوں پر نہیں پڑے گا، کیونکہ یہ ایندھن عام استعمال میں نہیں آتا۔ اس اقدام سے عام شہریوں کو براہ راست مالی دباؤ سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

حکومت کا مؤقف اور عوامی ریلیف

حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے ذریعے معاشی بوجھ کو زیادہ آمدنی والے طبقے کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ کم اور متوسط آمدنی والے افراد کے زیر استعمال ایندھن کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

اس اقدام سے ہر ماہ تقریباً 9 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جسے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ اس بچت کو براہ راست عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے۔

ریلیف پیکج کی تیاری اور حکومتی حکمت عملی

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی اعلان کیا ہے کہ حکومت کمزور طبقوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم، آئی ٹی اور خزانہ سمیت مختلف وزارتیں مشترکہ حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں تاکہ عوام کو بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے بچایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کے اثرات کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت پہلے ہی پیٹرولیم مصنوعات پر 69 ارب روپے کا بوجھ برداشت کر چکی ہے تاکہ عوام کو قیمتوں کے جھٹکوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اہم اجلاس اور حکومتی شخصیات کی شرکت

اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جہاں مجموعی معاشی صورتحال اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر غور کیا گیا۔

اگے آپ کہاں جانا چاہیں گے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top