اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات مکمل ہونے کے بعد دونوں فریقین نے اپنی اپنی تجاویز پیش کر دیں، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ وہ ایران کو بہترین پیشکش دے کر واپس جا رہے ہیں۔ مذاکرات کے اختتام پر دی گئی میڈیا بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا ہوگا ایران اس پیشکش پر کیا ردعمل دیتا ہے۔
جے ڈی وینس نے پاکستان کی میزبانی کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان نے اس عمل میں تعمیری کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی وفد نے خلوص نیت کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کی اور اپنی تجاویز ایرانی وفد کے سامنے رکھیں۔
جوہری پروگرام پر امریکی مؤقف واضح
اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات مکمل (US Iran talks Islamabad concluded) ہونے کے بعد جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ امریکا کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار کے حصول سے دستبردار رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو یقین دہانی کرانی چاہیے کہ اس کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایک سادہ اور حتمی تجویز کے ساتھ واپس جا رہا ہے، جس کا مقصد باہمی فہم و ادراک کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق یہی امریکا کی بہترین اور حتمی پیشکش ہے۔
وزیراعظم اور امریکی نائب صدر کی اہم ملاقات
اس سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف اور امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر امریکی نائب صدر کی معاونت نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے کی، جبکہ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی شامل تھے۔
وزیراعظم نے دونوں وفود کے تعمیری انداز میں مذاکرات کے عزم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت خطے میں دیرپا امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے سہولت کاری جاری رکھے گا۔
امریکی نائب صدر کی روانگی
بعد ازاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ مذاکرات مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد سے واپس روانہ ہو گئے۔ نور خان ایئربیس پر نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اعلیٰ حکام نے معزز مہمان کو رخصت کیا۔
امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس نے کی، جبکہ وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔









