راولپنڈی(سی این پی) عیدالاضحیٰ کی آمد کے پیش نظر راولپنڈی میں کانگو وائرس کے خدشات کے باعث ضلعی انتظامیہ نے ممکنہ کانگو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سخت اقدامات کا فیصلہ کر لیا ہے۔ شہریوں کی حفاظت اور مویشی منڈیوں کی مؤثر نگرانی کے لیے خصوصی پلان مرتب کیا گیا ہے، جس کے تحت نہ صرف چیک پوسٹس قائم کی جا رہی ہیں بلکہ جانوروں کی اسکریننگ اور نگرانی بھی سخت کر دی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر میں مجموعی طور پر 12 عارضی مویشی چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی تاکہ قربانی کے جانوروں کی آمدورفت کو مؤثر طریقے سے مانیٹر کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عید کے موقع پر بڑے پیمانے پر جانوروں کی نقل و حرکت اور غیر منظم منڈیوں کے باعث بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، اسی لیے اس بار پہلے سے زیادہ سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
مویشی منڈیوں اور داخلی راستوں پر سخت نگرانی
انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ راولپنڈی ڈویژن میں چھ سرکاری مویشی منڈیاں قائم کی جائیں گی جو 16 مئی سے عیدالاضحیٰ تک 24 گھنٹے فعال رہیں گی۔ یہ منڈیاں مختلف مقامات پر قائم کی جائیں گی جن میں اٹک، چکوال اور راولپنڈی کے اہم علاقے شامل ہیں۔
اسی طرح شہر کے داخلی راستوں پر خصوصی ویٹرنری ٹیمیں تعینات کی جائیں گی جو جانوروں کی سکریننگ کریں گی اور مشکوک یا بیمار جانوروں کو فوری طور پر الگ کیا جائے گا تاکہ کانگو وائرس (Congo Virus) کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
12 چیک پوسٹس اور اسپرے مہم کا آغاز
حکام کے مطابق راولپنڈی میں 12 مختلف مقامات پر چیک پوسٹس قائم کی جائیں گی جہاں قربانی کے جانوروں کا مکمل معائنہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جانوروں پر حفاظتی اسپرے اور ویکسینیشن کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ ٹِکس اور دیگر جراثیم کے ذریعے بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق عید کے دنوں میں جانوروں پر موجود ٹِکس کانگو وائرس کی منتقلی کا بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں، اسی لیے منڈیوں میں ویٹرنری عملے کی موجودگی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
شہریوں کیلئے مخصوص سیل پوائنٹس بھی مقرر
ضلعی انتظامیہ نے راولپنڈی میں آٹھ مخصوص سیل پوائنٹس بھی نوٹیفائی کر دیے ہیں جہاں صرف باقاعدہ طور پر جانوروں کی خرید و فروخت کی اجازت ہوگی۔ ان مقامات میں بھٹہ چوک شیخ پور، روات جی ٹی روڈ، چکری روڈ، گجر خان، واہ کینٹ اور دیگر علاقے شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سال گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عیدالاضحیٰ کے دوران کسی بھی ممکنہ صحت کے خطرے سے بچا جا سکے اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔









