طارق رحمان کی تاریخی کامیابی، جمہوریت کے نام پیغام

بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی تاریخی کامیابی، جمہوریت کے نام پیغام

ڈھاکہ میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم موڑ آ گیا ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کی تاریجی کامیابی ، انہوں نے اپنی فتح اُن افراد کے نام کیا ہے جنہوں نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں۔ 2024 کی خونی عوامی تحریک کے بعد ہونے والے یہ پہلے انتخابات تھے، جنہیں ملکی سیاست میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

60 سالہ طارق رحمان، جو ایک طاقتور سیاسی خاندان کے وارث ہیں، اب 17 کروڑ آبادی والے جنوبی ایشیائی ملک کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ یہ کامیابی صرف ان کی جماعت کی نہیں بلکہ پورے بنگلہ دیش اور جمہوریت کی فتح ہے۔ ان کے بقول یہ جیت اُن لوگوں کی ہے جنہوں نے جمہوری اقدار کے لیے جدوجہد کی اور قربانیاں دیں۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائد نے سیاسی اختلافات کے باوجود قومی اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مختلف جماعتوں کے راستے اور آرا مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کے مفاد میں سب کو متحد رہنا ہوگا۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملک سیاسی اتھل پتھل کے دور سے گزر رہا ہے۔

یہ انتخابات اُس عبوری حکومت کے بعد منعقد ہوئے جو 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی۔ اس تحریک نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی طویل اور سخت گیر حکمرانی کا خاتمہ کیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ نتائج ملک میں طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتے ہیں۔

انتخابی نتائج اور سیاسی منظرنامہ

الیکشن کمیشن کے مطابق بی این پی اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کیں، جب کہ جماعتِ اسلامی کی قیادت والے اتحاد کو 77 نشستیں ملیں۔ جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے ابتدا میں انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھائے، تاہم بعد ازاں انہوں نے نتائج تسلیم کرتے ہوئے مؤثر اور پرامن اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا۔

سابق حکمران جماعت عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شیخ حسینہ، جنہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی گئی تھی، اس وقت بھارت میں مقیم ہیں۔ انہوں نے انتخابی عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبیل انعام یافتہ ماہر معاشیات محمد یونس نے طارق رحمان کو مبارک باد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی قیادت ملک کو استحکام، شمولیت اور ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ بین الاقوامی مبصرین، بشمول یورپی یونین، نے انتخابات کو شفاف اور قابلِ اعتبار قرار دیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 300 میں سے 299 حلقوں میں ووٹنگ ہوئی اور مجموعی ٹرن آؤٹ 59 فیصد رہا۔ پارلیمنٹ میں صرف سات خواتین براہِ راست منتخب ہوئیں، تاہم 50 مخصوص نشستیں پارٹی فہرستوں سے پُر کی جائیں گی۔

اصلاحات، چیلنجز اور آئندہ کا لائحہ عمل

ووٹروں نے ایک ریفرنڈم میں جمہوری اصلاحات کے ایک وسیع منشور کی بھی توثیق کی، جس میں وزیر اعظم کی مدت کی حد مقرر کرنا، پارلیمنٹ کا ایوانِ بالا قائم کرنا، صدر کے اختیارات میں اضافہ اور عدلیہ کی خودمختاری کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد یک جماعتی نظام کی واپسی کو روکنا اور حکومتی ڈھانچے کو متوازن بنانا ہے۔

طارق رحمان نے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ نئی حکومت کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ ان کے مطابق ملک ایک کمزور معیشت، آئینی اداروں کی کمزوری اور قانون و انتظام کی بگڑتی صورتحال کے پس منظر میں نئے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آمرانہ طرزِ حکمرانی کے بعد ریاستی ڈھانچے کو بحال کرنا اور عوام کا اعتماد جیتنا اولین ترجیح ہوگی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر وعدہ کردہ اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد کیا گیا تو بنگلہ دیش ایک زیادہ مستحکم اور شفاف جمہوری نظام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top