اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے IMF نے کہا ہے کہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (E.F.F) کے تحت پاکستان کی جانب سے کیے گئے پالیسی اقدامات نے معیشت کو استحکام دیا ہے اور کاروباری اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ ادارے کے مطابق مالیاتی کارکردگی مضبوط رہی اور مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں پاکستان کو 1.3 فیصد مالیاتی سرپلس حاصل ہوا، جو پروگرام کے اہداف کے مطابق ہے۔
آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر برائے کمیونیکیشنز Julie Kozik نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح میں بتدریج کمی آئی ہے۔ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 14 برس بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا، جو ملکی اقتصادی استحکام کی اہم نشانی ہے۔
ای ایف ایف پروگرام کے اثرات
ای ایف ایف پروگرام کے تحت پاکستان نے مالیاتی ڈسپلن برقرار رکھا اور اقتصادی اصلاحات کو نافذ کیا۔ اس اقدام سے نہ صرف مالیاتی سرپلس حاصل ہوا بلکہ کاروباری برادری میں اعتماد بھی بڑھا۔ آئی ایم ایف کے مطابق یہ اصلاحات ملکی معیشت کو عالمی معیار کے مطابق استحکام فراہم کرتی ہیں اور ترقی کی بنیاد مضبوط کرتی ہیں۔
آئندہ دورہ اور جائزہ
آئی ایم ایف کی ترجمان نے مزید بتایا کہ ادارے کا ایک وفد 25 فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گا۔ دورے کے دوران ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر بات چیت کی جائے گی۔ یہ اجلاس ملکی اقتصادی پالیسیوں کی بہتری اور مالیاتی استحکام کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہم ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق ای ایف ایف پروگرام کے اثرات مستقبل میں مالیاتی استحکام، مہنگائی پر کنٹرول اور کاروباری ماحول کی بہتری میں مددگار ثابت ہوں گے۔









