جمعہ کو اضافی چھٹی کیوں؟ حکومت کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا

جمعہ کو اضافی چھٹی کیوں؟ حکومت کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت موجودہ علاقائی صورتحال اور توانائی بچت اقدامات کے حوالے سے اہم اجلاس میں کفایت شعاری پالیسی پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہفتہ وار اضافی سرکاری چھٹی جمعہ کے روز ہوگی تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے اور حکومتی اخراجات کو محدود رکھا جا سکے۔
وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس میں وفاقی کابینہ کے اہم ارکان اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان کو توانائی کے ممکنہ دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، اس لیے سرکاری اداروں میں کفایت شعاری اور توانائی کی بچت کے اقدامات کو فوری اور مؤثر انداز میں نافذ کرنا ضروری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ عالمی معاشی دباؤ اور خطے کی صورتحال کے باوجود ملکی معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ کفایت شعاری اور توانائی بچت کے اقدامات پر عملدرآمد کے لیے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کفایت شعاری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کرایا جائے تاکہ ان کے عملی اثرات کا جائزہ لیا جا سکے اور مستقبل کی پالیسی سازی میں ان سے رہنمائی حاصل ہو سکے۔

توانائی بچت اور کفایت شعاری پر سخت ہدایات

وزیراعظم نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت دی کہ سادگی، کفایت شعاری اور توانائی بچت کے اقدامات کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ادارے بند کی جانے والی گاڑیوں کی تصاویر کابینہ ڈویژن کو ارسال کریں تاکہ اخراجات میں کمی کے اقدامات کی نگرانی ممکن ہو سکے۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ورک فرام ہوم پالیسی کو مؤثر بنانے کے لیے ہر وزارت اپنی کارکردگی رپورٹ وزیر اعظم آفس کو ارسال کرے گی۔ اس کے علاوہ تمام وفاقی وزارتیں اور ڈویژنز کفایت شعاری، توانائی بچت اور ورک فورس مینجمنٹ کے حوالے سے روزانہ اور ہفتہ وار رپورٹس بھی متعلقہ کمیٹی کو فراہم کریں گی۔
اجلاس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتی اداروں میں توانائی کے بہتر استعمال اور اخراجات میں کمی کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں ورک فورس مینجمنٹ اور انتظامی اخراجات میں کمی بھی شامل ہے۔

علاقائی صورتحال اور توانائی بحران کا خدشہ

وزیراعظم نے حالیہ خطاب میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں جس کے اثرات پاکستان سمیت کئی ممالک کی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری اخراجات میں کمی، پٹرول کے استعمال میں کمی اور غیر ضروری سرگرمیوں کو محدود کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے توانائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں میں ورک فرام ہوم پالیسی اور سادگی کے اقدامات کے ذریعے ایندھن کی بچت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ملکی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مشکل عالمی حالات کے باوجود معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری فیصلے کرتی رہے گی اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top