2026 میں سونا کتنا مہنگا ہو سکتا ہے؟ جے پی مورگن کی حیران کن پیشگوئی

2026 میں سونا کتنا مہنگا ہو سکتا ہے؟ جے پی مورگن کی حیران کن پیشگوئی

نیویارک: عالمی مالیاتی ادارے جے پی مورگن چیس (JPMorgan Chase) نے سونے کی قیمتوں سے متعلق چونکا دینے والی پیشگوئی جاری کر دی۔ ادارے کے مطابق رواں سال کے اختتام تک سونا 6,300 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتا ہے، جو موجودہ شرح تبادلہ کے مطابق پاکستانی روپوں میں تقریباً 17 لاکھ 60 ہزار روپے فی اونس کے برابر ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور مرکزی بینکوں کی بڑھتی ہوئی خریداری قیمتوں میں بڑے اضافے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی منڈیوں سمیت پاکستان پر بھی پڑیں گے۔

ادارے کی مارکیٹ بریف میں بتایا گیا ہے کہ مختلف ممالک کے مرکزی بینک اپنے زرِمبادلہ ذخائر میں تنوع لا رہے ہیں اور وہ کاغذی کرنسی کے بجائے حقیقی اثاثوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسی رجحان کے باعث سونے کی طلب میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور یہی عنصر قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح تک لے جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر غیر یقینی معاشی حالات نے بھی سونے کو محفوظ سرمایہ کاری بنا دیا ہے۔

رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2026 کے دوران مرکزی بینکوں کی مجموعی خریداری 800 ٹن تک رہ سکتی ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں سمجھی جا رہی ہے۔ سرمایہ کار بھی غیر یقینی معاشی حالات میں سونے کو محفوظ سرمایہ کاری تصور کر رہے ہیں، جس سے عالمی طلب مزید مستحکم ہونے کا امکان ہے اور قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔

دوسری جانب ادارے نے چاندی کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ چند ہفتے قبل 122 ڈالر فی اونس کی سطح کو چھونے والی چاندی اب 76 ڈالر تک آ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چاندی کو مرکزی بینکوں کی وہ مستقل سپورٹ حاصل نہیں جو سونے کو حاصل ہے، اسی لیے اس کی قیمت 75 سے 80 ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ممکنہ اضافے کے اثرات پاکستان میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں کیونکہ بین الاقوامی ریٹس میں اتار چڑھاؤ مقامی مارکیٹ کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی قیمتوں میں کمی سے پاکستان میں بھی سونا سستا ہوا تھا، تاہم نئی پیشگوئی کے بعد قیمتوں میں دوبارہ اضافہ خارج از امکان نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top