واشنگٹن: امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے خلیجی خطے میں تعینات امریکی میزائل دفاعی نظام کے ایک اہم حصے امریکی تھاڈ ریڈار سسٹم کو نشانہ بناتے ہوئے تقریباً 300 ملین ڈالر مالیت کا AN/TPY-2 ریڈار سسٹم تباہ کر دیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ریڈار امریکی تھاڈ (THAAD) میزائل دفاعی نظام کی رہنمائی کے لیے استعمال ہو رہا تھا، جس کی تباہی سے خطے میں مستقبل کے ممکنہ میزائل حملوں کے خلاف دفاعی صلاحیت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق امریکی دفاعی کمپنی RTX کارپوریشن کی جانب سے تیار کردہ AN/TPY-2 ریڈار اور اس سے متعلق معاون آلات اردن کے موفق السلطي ایئر بیس پر جنگ کے ابتدائی دنوں میں تباہ ہوئے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے اس واقعے کی اطلاع دی تھی، جس کی بعد میں ایک امریکی عہدیدار نے بھی تصدیق کر دی۔
تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے اعداد و شمار کے مطابق اردن میں ایران کے کم از کم دو حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ پہلا حملہ 28 فروری جبکہ دوسرا 3 مارچ کو ہوا۔ ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ دونوں حملوں کو ناکام بنا دیا گیا تھا، تاہم بعد میں سیٹلائٹ تصاویر سے ریڈار سسٹم کو نقصان پہنچنے کے شواہد سامنے آئے۔
ایران کی عسکری کارروائیوں میں ایک نمایاں کامیابی
ادارے کے سینٹر آن ملٹری اینڈ پولیٹیکل پاور کے نائب ڈائریکٹر ریان بروبسٹ کے مطابق اگر تھاڈ ریڈار پر ایرانی حملہ واقعی کامیاب ہوا ہے تو اسے ایران کی حالیہ عسکری کارروائیوں میں ایک نمایاں کامیابی سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے ریڈار نظام میزائل دفاعی نظام کی ابتدائی وارننگ اور ہدف کی نشاندہی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں کے پاس دیگر ریڈار اور دفاعی نظام بھی موجود ہیں جو فضائی اور میزائل دفاع کی کوریج برقرار رکھ سکتے ہیں، اس لیے کسی ایک ریڈار کے نقصان کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق AN/TPY-2 ریڈار کی تباہی کے بعد خطے میں میزائل روکنے کی ذمہ داری زیادہ تر پیٹریاٹ دفاعی نظام پر منتقل ہو سکتی ہے، جبکہ PAC-3 میزائل پہلے ہی محدود تعداد میں دستیاب ہیں۔ اس صورتحال میں خطے میں دفاعی وسائل پر دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکی فوج کے پاس اس وقت دنیا بھر میں 8 تھاڈ سسٹمز موجود ہیں، جن میں جنوبی کوریا اور گوام میں تعینات دفاعی نظام بھی شامل ہیں۔ دفاعی تجزیاتی ادارے سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق ایک مکمل تھاڈ بیٹری کی لاگت تقریباً ایک ارب ڈالر ہوتی ہے، جبکہ صرف AN/TPY-2 ریڈار کی قیمت تقریباً 300 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔









