تہران (سی این پی) ایران میں حالیہ مظاہروں نے شدید انسانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے۔ نیم سرکاری ذرائع کے مطابق ملک میں 3117 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ تہران میں صرف نقصانات کا تخمینہ 30 کھرب ریال لگایا گیا ہے۔ مظاہرین نے سرکاری عمارتوں، بینک برانچز اور سپر مارکیٹس کو نشانہ بنایا، جس سے ملک گیر نقصان کے ساتھ سکیورٹی کی صورتحال بھی سنگین ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے 469 سرکاری عمارتوں پر حملے کیے اور انہیں نذرِ آتش کر دیا۔ ملک کے آٹھ صوبوں میں 702 بینک برانچز تباہ کی گئیں جبکہ 419 سپر مارکیٹس کو لوٹا گیا اور آگ لگا دی گئی۔ ایران کے پولیس چیف بریگیڈیئر جنرل احمد رضا رادان نے کہا کہ مظاہروں میں شامل افراد کی گرفتاریاں جاری ہیں اور کارروائیاں اس وقت تک ختم نہیں ہوں گی جب تک آخری ملوث شخص گرفتار نہ ہو جائے۔
بدامنی کے دوران پولیس کی 740 گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور 305 عوامی ٹرانسپورٹ کے ذرائع جیسے بسیں اور ایمبولینس بھی متاثر ہوئے۔ نیوز ایجنسی کے مطابق ملک میں عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور 484 مساجد کو نقصان پہنچا یا آگ لگا دی گئی۔ مزید سینکڑوں گھروں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، جس سے انسانی زندگی اور معیشت پر بھاری اثر پڑا۔
حکومتی اقدامات اور گرفتاریوں کا سلسلہ
ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس نے جنوبی صوبہ فارس میں 162 مبینہ فسادی رہنماؤں کو گرفتار کیا۔ ان پر سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ گرفتار افراد نے شیراز میں متعدد بلدیاتی عمارتیں، فائر بریگیڈ گاڑیاں، بسیں، ایمبولینسیں اور مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا۔ کارروائیوں کے دوران اسلحہ اور گولیاں بھی برآمد کی گئیں، جس سے مظاہروں کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔
ایران کی شہدا اور سابق فوجیوں کی فاؤنڈیشن نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے افراد میں سے اکثریت کو شہید کا درجہ دیا گیا۔ کل 3117 اموات میں 2427 افراد عام شہری اور سکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جو دہشت گردانہ واقعات کے نتیجے میں شہید ہوئے۔
یاد رہے کہ ایران میں بدامنی 28 دسمبر سے شروع ہوئی، جس کی بنیادی وجہ کرنسی کی قدر میں کمی اور خراب معاشی حالات تھے۔ یہ صورتحال جلد ہی ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو گئی اور آٹھ اور نو جنوری کو شدت اختیار کر گئی۔
حکام نے مظاہروں کو مسلح دہشت گردی قرار دیتے ہوئے سخت کریک ڈاؤن کیا اور ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا۔ اس نے آزادانہ رپورٹنگ اور قابلِ تصدیق معلومات کی ترسیل کو شدید متاثر کیا، جس سے داخلی اور بین الاقوامی سطح پر صورتحال کی نگرانی مشکل ہو گئی۔









