تحریر : ساجد حسین
تاریخ کے جھروکوں سے جب ہم انسانی حقوق اور آزادی کی جدوجہد کا مطالعہ کرتے ہیں، تو وادیِ کشمیر ایک ایسے سلگتے ہوئے جہنم کا نقشہ پیش کرتی ہے جہاں انسانوں کی سانسوں پر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں۔ پانچ فروری کا دن محض ایک تقویم کی تاریخ نہیں، بلکہ یہ پاکستان اور دنیا بھر کے انصاف پسند انسانوں کے اس عہد کی تجدید ہے جو وہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ یومِ یکجہتی کشمیر اس بات کا اعلان ہے کہ جب تک سری نگر کی گلیوں میں آزادی کا سورج طلوع نہیں ہوتا، تب تک پاکستان کا ہر شہری اور دنیا کا ہر باضمیر انسان سکون سے نہیں بیٹھے گا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ برصغیر کی تقسیم کا ایجنڈا آج بھی ادھورا ہے اور اس کی تکمیل صرف کشمیریوں کے حقِ خودارادیت سے ہی ممکن ہے۔
لہو رنگ وادی اور تاریخ کا وہ ادھورا باب
کشمیر کی کہانی 1947 کے اس سنگین دھوکے سے شروع ہوتی ہے جب برطانوی راج نے برصغیر کو آزاد تو کیا لیکن جغرافیائی اور اخلاقی بنیادوں پر کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہونا طے پایا تھا۔ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے ناطے کشمیری عوام کا جھکاؤ فطری طور پر پاکستان کی جانب تھا، لیکن ڈوگرا راج اور بھارتی قیادت کی ملی بھگت نے اس جنت نظیر وادی کو لہو لہان کر دیا۔ تب سے لے کر آج تک، کشمیریوں نے ایک بھی دن بھارت کے غاصبانہ قبضے کو تسلیم نہیں کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی جبر کی حد بڑھی ہے، کشمیریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ زنجیریں جسموں کو تو جکڑ سکتی ہیں لیکن نظریات اور آزادی کی تڑپ کو قید نہیں کر سکتیں۔
بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور ہٹ دھرمی کا نیا رخ
گزشتہ کچھ برسوں میں، خاص طور پر 5 اگست 2019 کے بعد سے، بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ مودی سرکار نے آرٹیکل 370 اور 35-A کا خاتمہ کر کے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دیں۔ یہ اقدام محض ایک آئینی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ یہ کشمیر کی مسلم شناخت کو ختم کرنے اور وہاں کی آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ آج مقبوضہ وادی ایک ایسی کھلی جیل میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں دنیا کی سب سے بڑی فوجی نفری تعینات ہے۔ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ لاکھوں فوجیوں کے بل بوتے پر کشمیریوں کے حوصلے پست کر دے گا، لیکن وہ یہ بھول رہا ہے کہ جبر جتنا بڑھتا ہے، بغاوت اتنی ہی تند و تیز ہوتی جاتی ہے۔
انسانی حقوق کی پامالی: عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی داستانیں سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ پیلٹ گنز کا استعمال کر کے نوجوانوں کی بینائی چھیننا، ماورائے عدالت قتل، اور گھروں میں گھس کر خواتین کی بے حرمتی کرنا بھارتی فوج کا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ جبری گمشدگیاں اور بے نام قبریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں انسانیت کا قتلِ عام ہو رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو مغربی طاقتیں دنیا بھر میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا راگ الاپتی ہیں، وہ کشمیر کے معاملے پر مصلحت پسندی کا شکار ہو کر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ کیا کشمیریوں کا خون اتنا سستا ہے کہ عالمی برادری کو نظر نہیں آتا؟ یہ سوال آج ہر باضمیر انسان پوچھ رہا ہے۔
پاکستان کا غیر متزلزل موقف اور عوامی جذبات
پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر کے ساتھ دل و جان سے وابستہ ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ہر عالمی فورم پر کشمیر کا مقدمہ ایک وکیل کی طرح لڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ہو یا او آئی سی کے اجلاس، پاکستان کی قیادت نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ پاکستان کی عوام کا جذبہ دیدنی ہوتا ہے؛ جب پانچ فروری کو کراچی سے خیبر تک انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جاتی ہے، تو یہ دنیا کو پیغام ہوتا ہے کہ ہم ایک قوم ہیں۔ پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت ہی وہ سہارا ہے جس نے کشمیریوں کی امید کی شمع کو گل ہونے سے بچا رکھا ہے۔
آزاد کشمیر: جدوجہدِ آزادی کا مضبوط بیس کیمپ
تحریکِ آزادیِ کشمیر میں آزاد جموں و کشمیر کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ یہ خطہ درحقیقت مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے لیے ایک مضبوط بیس کیمپ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کے رہنماؤں اور عوام نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزیوں کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت اور وہاں کے عوام کی جدوجہد اس بات کی علامت ہے کہ آزادی کی یہ تڑپ سرحد کے دونوں طرف یکساں ہے۔ حریت رہنماؤں کی قربانیاں، جنہوں نے اپنی پوری زندگیاں جیلوں میں گزار دیں لیکن بھارتی جبر کے سامنے سر نہیں جھکایا، ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ سید علی گیلانی جیسے عظیم رہنماؤں کی میراث آج بھی جوانوں کے خون میں دوڑ رہی ہے۔
عالمی اداروں کی پراسرار خاموشی اور منافقت
اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں حقِ خودارادیت کو ایک بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے، لیکن جب بات کشمیر کی آتی ہے تو یہی ادارہ بے بس نظر آتا ہے۔ سلامتی کونسل کی درجنوں قراردادیں آج بھی گرد آلود فائلوں میں دبی پڑی ہیں۔ عالمی برادری کی یہ خاموشی دراصل بھارت کو شہ دینے کے مترادف ہے۔ تجارت اور معاشی مفادات نے انسانیت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے صرف قراردادیں پاس کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ بھارت پر اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کریں تاکہ وہ کشمیریوں کو ان کا جائز حق دینے پر مجبور ہو جائے۔ اگر آج کشمیر کے مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو یہ خطہ کسی بھی وقت ایک بڑے ایٹمی تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
ڈیجیٹل دور اور کشمیر کا بیانیے کی اہمیت
آج کے دور میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ بھارت نے کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کر کے آواز دبانے کی کوشش کی، لیکن سچائی کو زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا۔ ہمیں سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیر کے اصل حالات کو دنیا کے سامنے لانا ہوگا۔ “کشمیر بنے گا پاکستان” اور “حقِ خودارادیت” جیسے نعرے صرف نعرے نہیں بلکہ ایک حقیقت بن کر ابھرنے چاہئیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کشمیریوں کی کہانیاں شیئر کرنا، دستاویزی فلمیں بنانا اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
حل کی کلید: استصوابِ رائے اور پرامن مستقبل
کشمیر کے مسئلے کا واحد اور پائیدار حل صرف اور صرف اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے ہے۔ کشمیریوں کو خود فیصلہ کرنے دیا جائے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ طاقت کا استعمال کبھی بھی دلوں کو فتح نہیں کر سکتا۔ بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ کشمیریوں کی نسلیں تو ختم کر سکتا ہے لیکن ان کی روح سے آزادی کی تڑپ نہیں نکال سکتا۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔ ورنہ جنوبی ایشیا میں امن کا خواب شرمندہِ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
تجدیدِ عہد اور مستقبل کی جھلک
یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حق اور باطل کی اس جنگ میں ہم نے حق کا ساتھ دینا ہے۔ یہ جدوجہد طویل ضرور ہے لیکن منزل قریب ہے۔ کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ پاکستان کی عوام، افواج اور سیاسی قیادت ایک پیج پر ہیں کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ کشمیر کی صبحِ آزادی اب زیادہ دور نہیں، کیونکہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔









