نپاہ وائرس عالمی خطرہ

نپاہ وائرس : مہلک عالمی خطرہ، پاکستان کے لیے کتنی بڑی وارننگ؟

تحریر : محمد ولید اعوان

نپاہ وائرس کیا ہے؟

نپاہ وائرس (Nipah Virus) دنیا کے اُن چند وائرسز میں شامل ہے جنہیں طبی ماہرین انتہائی مہلک، غیر متوقع اور تیزی سے پھیلنے والا قرار دیتے ہیں۔ یہ ایک زونوٹک وائرس ہے، یعنی ایسا وائرس جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتا ہے۔ نپاہ وائرس بنیادی طور پر پیرامائکسو وائرس (Paramyxovirus) خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا قدرتی میزبان پھل خور چمگادڑ (Fruit Bats) ہیں، جنہیں فلائنگ فاکس بھی کہا جاتا ہے۔

اس وائرس کو اکثر “خاموش قاتل” اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی ابتدائی علامات عام بخار یا فلو جیسی ہوتی ہیں، مگر چند ہی دنوں میں یہ مرض جان لیوا دماغی سوزش، کوما اور موت تک جا پہنچتا ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب تک اس وائرس کے لیے کوئی مکمل طور پر منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں، جس کے باعث یہ عالمی سطح پر صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

آج ہم نپاہ وائرس کی تاریخ، پھیلاؤ، علامات، اقسام، علاج، بچاؤ، پاکستان کے لیے خطرات اور مستقبل کے خدشات پر ایک تفصیلی تجزیہ پیش کرین گے تاکہ عوام میں بروقت آگاہی اور احتیاط کو فروغ دیا جا سکے۔

نپاہ وائرس کی ابتدا اور تاریخ

نپاہ وائرس کا پہلا باقاعدہ آؤٹ بریک 1998–1999 میں سامنے آیا، جب ملائیشیا کے ایک گاؤں “نپاہ” میں نامعلوم بیماری نے اچانک سور پالنے والے کسانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ ابتدا میں اس بیماری کو جاپانی انسیفلائٹس سمجھا گیا، مگر بعد ازاں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ ایک بالکل نیا اور مہلک وائرس ہے، جسے اسی گاؤں کے نام پر نپاہ وائرس کہا گیا۔

تحقیقات کے مطابق، پھل خور چمگادڑوں نے آلودہ پھل یا فضلہ کے ذریعے سوروں کو متاثر کیا، اور پھر یہ وائرس سوروں سے براہِ راست انسانوں میں منتقل ہوا۔ اس آؤٹ بریک کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور لاکھوں سوروں کو تلف کرنا پڑا، جس سے ملائیشیا کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔

بعد ازاں بنگلہ دیش اور بھارت میں نپاہ وائرس کے کیسز سامنے آئے، جہاں پھیلاؤ کا ذریعہ مختلف تھا۔ ان ممالک میں خام کھجور کے رس (Raw Date Palm Sap) کو پینے کی روایت عام ہے، جسے چمگادڑ آلودہ کر دیتی ہیں۔ یہی رس بعد میں انسانوں میں انفیکشن کا سبب بنا۔

عالمی پھیلاؤ اور جانی نقصانات کا جائزہ

نپاہ وائرس اب تک زیادہ تر جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا تک محدود رہا ہے، تاہم اس کی نوعیت ایسی ہے کہ مستقبل میں کسی بھی خطے کو متاثر کر سکتا ہے۔ جن ممالک میں اس وائرس کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، ان میں ملائیشیا، سنگاپور، بنگلہ دیش اور بھارت شامل ہیں۔

شرحِ اموات: ایک تشویشناک حقیقت

نپاہ وائرس کی سب سے خوفناک خصوصیت اس کی انتہائی بلند شرحِ اموات ہے، جو مختلف آؤٹ بریکس میں 40 فیصد سے 75 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ بعض بھارتی ریاستوں، خصوصاً کیرالہ میں، یہ شرح 80 فیصد کے قریب بھی دیکھی گئی، جو اسے دنیا کے مہلک ترین وائرسز میں شامل کرتی ہے۔

نپاہ وائرس کی اقسام

نپاہ وائرس کی دو نمایاں اقسام سامنے آ چکی ہیں، جن کا پھیلاؤ اور مہلک پن ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

ملائیشین سٹرین (NiV-Malaysia) : یہ سٹرین زیادہ تر جانوروں (خصوصاً سوروں) کے ذریعے پھیلی۔ اس میں انسان سے انسان میں منتقلی کے امکانات نسبتاً کم تھے، تاہم دماغی سوزش کے کیسز زیادہ دیکھے گئے۔
بنگلہ دیشی سٹرین (NiV-Bangladesh) : یہ سٹرین زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یہ انسان سے انسان میں باآسانی منتقل ہو سکتی ہے۔ مریض کے تھوک، سانس، قے یا جسمانی رطوبتوں کے ذریعے وائرس پھیلنے کے شواہد موجود ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق، مستقبل کے کسی ممکنہ آؤٹ بریک میں بنگلہ دیشی سٹرین عالمی سطح پر زیادہ بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

علامات اور تشخیص:

نپاہ وائرس کی علامات دو مراحل میں ظاہر ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ابتدائی تشخیص اکثر مشکل ہو جاتی ہے۔

ابتدائی علامات

ابتدا میں مریض کو عام وائرل بخار جیسی علامات محسوس ہوتی ہیں، جن میں تیز بخار، شدید سر درد، جسم میں درد، کھانسی، گلے میں سوزش اور بعض اوقات الٹیاں شامل ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اکثر مریض بیماری کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

شدید علامات

چند دنوں بعد وائرس دماغ پر حملہ آور ہو جاتا ہے، جس سے دماغی سوزش (Encephalitis) پیدا ہوتی ہے۔ کیرالہ (بھارت) میں 2018 کے آؤٹ بریک کے دوران مریضوں میں تیز ذہنی الجھن، بولنے میں دقت، دورے پڑنا اور تیزی سے کوما میں جانا ریکارڈ کیا گیا، جن میں سے اکثر جانبر نہ ہو سکے۔

تشخیصی طریقے

نپاہ وائرس کی تصدیق کے لیے جدید لیبارٹری ٹیسٹ استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں RT-PCR، ELISA اور خون، پیشاب یا گلے کے نمونوں کی جانچ شامل ہے۔ چونکہ یہ ایک ہائی رسک وائرس ہے، اس لیے ٹیسٹ صرف مخصوص لیبارٹریز میں ہی کیے جاتے ہیں۔

بچاؤ اور احتیاطی تدابیر

نپاہ وائرس کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار احتیاط ہے، کیونکہ علاج محدود ہے۔

پھلوں کو اچھی طرح دھو کر استعمال کرنا، زمین پر گرے ہوئے یا پرندوں اور چمگادڑوں کے کترے ہوئے پھلوں سے پرہیز نہایت ضروری ہے۔ بنگلہ دیش اور بھارت میں خام کھجور کے رس سے پرہیز یا اسے ابال کر پینا اہم حفاظتی قدم سمجھا جاتا ہے۔

متاثرہ مریضوں سے براہِ راست رابطے سے گریز، ہسپتالوں میں PPE کٹس کا استعمال اور قرنطینہ اقدامات وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

ویکسین اور طبی علاج کی موجودہ صورتحال

فی الحال نپاہ وائرس کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں، تاہم مختلف ممالک میں اس پر تحقیق جاری ہے۔ ہسپتالوں میں مریض کو سپورٹیو کیئر فراہم کی جاتی ہے، جس میں سانس کی مدد، بخار اور دوروں کا کنٹرول شامل ہے۔

حالیہ برسوں میں مونوکلونل اینٹی باڈیز پر تجربات حوصلہ افزا رہے ہیں، مگر یہ علاج ابھی محدود اور تجرباتی مرحلے میں ہے۔

پاکستان اور نپاہ وائرس: خطرہ کتنا حقیقی ہے؟

اب تک پاکستان میں نپاہ وائرس کا کوئی بڑا آؤٹ بریک رپورٹ نہیں ہوا، تاہم چونکہ پاکستان کا جغرافیائی اور ماحولیاتی ماحول بھارت اور بنگلہ دیش سے مشابہ ہے، اس لیے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

بھارت میں حالیہ کیسز کے بعد پاکستانی صحت کے ادارے الرٹ پر ہیں، اور ماہرین کے مطابق بروقت نگرانی، آگاہی اور بارڈر ہیلتھ اسکریننگ نہایت ضروری ہے۔

دیسی ٹوٹکے اور گھریلو علاج: حقیقت یا خطرناک وہم؟

یہ واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ نپاہ وائرس جیسی مہلک بیماری کا کوئی دیسی یا گھریلو علاج موجود نہیں۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والے نسخے نہ صرف غیر مؤثر بلکہ جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

البتہ متوازن غذا، وٹامنز اور قوتِ مدافعت بہتر رکھنے والی خوراک مجموعی صحت کے لیے مفید ہو سکتی ہے، مگر علاج کا نعم البدل ہرگز نہیں۔

مستقبل کے خدشات

عالمی ادارہ صحت (WHO) نے نپاہ وائرس کو اپنی Priority Diseases List میں شامل کر رکھا ہے۔ ماہرین One Health Approach پر زور دیتے ہیں، جس میں انسان، جانور اور ماحول کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا سمجھا جاتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق، اگر وائرس میں مزید جینیاتی تبدیلیاں آئیں تو یہ مستقبل میں کسی بڑی عالمی وبا کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔

نپاہ وائرس ایک خاموش مگر انتہائی مہلک عالمی خطرہ ہے، جس کا واحد مؤثر حل بچاؤ، بروقت تشخیص اور عوامی آگاہی ہے۔ حکومتوں کو مضبوط نگرانی نظام قائم کرنا ہوگا، جبکہ عوام کو غیر مصدقہ علاج سے گریز اور طبی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

یاد رکھیں، احتیاط ہی واحد حفاظت ہے — کیونکہ نپاہ وائرس کے خلاف جنگ میں لاپرواہی کی کوئی گنجائش نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top