سنگاپور: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایران امریکا کشیدگی اور سپلائی خدشات کے باعث قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ حالیہ صورتحال میں سرمایہ کار غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں، جبکہ خلیج میں جاری تنازع نے عالمی توانائی مارکیٹ پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا یہ رجحان عالمی معیشت اور مہنگائی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں برینٹ خام تیل 2.89 ڈالر اضافے کے بعد 102.83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی خام تیل 2.49 ڈالر اضافے کے ساتھ 90.62 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ سپلائی خدشات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث سامنے آ رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی جانب سے ایرانی پاور تنصیبات پر حملوں میں پانچ دن کی تاخیر کے اعلان کے بعد پیر کو قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی، جس کے بعد مارکیٹ میں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ایران نے ان دعوؤں کو مالیاتی منڈیوں کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے، جس سے آبنائے ہرمز میں تیل سپلائی بحران (Strait of Hormuz oil supply crisis) مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے، اور موجودہ کشیدگی نے عالمی تیل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال (global oil market uncertainty) کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اپنا رہے ہیں اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جبکہ بدترین صورتحال میں یہ 150 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں 85 سے 90 ڈالر فی بیرل کی سطح بنیادی سپورٹ کے طور پر کام کر رہی ہے، تاہم کسی بھی بڑی پیش رفت سے مارکیٹ میں تیزی آ سکتی ہے۔
حالیہ حملوں میں ایران کے مختلف علاقوں میں توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث گیس سپلائی متاثر ہوئی۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی مارکیٹ میں بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے کچھ پابندیوں میں عارضی نرمی کے باوجود مکمل استحکام پیدا نہیں ہو سکا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ (Oil prices increase) کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے، کیونکہ سپلائی میں رکاوٹ اور جغرافیائی سیاسی صورتحال مارکیٹ پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس صورتحال میں عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔









