اسلام آباد: پاکستان اور ازبکستان نے باہمی معاشی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے دوطرفہ تجارت کو دو ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک نے اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جسے خطے میں اقتصادی استحکام اور ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے تجارتی حجم اور اقتصادی تعاون میں اضافے کے پروٹوکول پر دستخط کیے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ازبکستان اپنی شراکت داری کو طویل المدتی بنیادوں پر مستحکم کریں گے۔
دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو منظم اور مؤثر بنانے کے لیے ایک جامع ورکنگ ایکشن پلان مرتب کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ اس ایکشن پلان کے تحت سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی تعاون اور تجارتی سہولت کاری کے اقدامات شامل ہوں گے، جو مستقبل میں عملی نتائج دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے گئے، جس میں خطے میں امن، اقتصادی ترقی اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
دوطرفہ تجارت کے فروغ کی سمت فیصلہ کن پیش رفت
پاکستان اور ازبکستان کے درمیان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور وفود نے شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ بھی کیا گیا۔
ترجیحی تجارت کے معاہدے کے تحت اشیا کی فہرست میں توسیع کے پروٹوکول پر بھی اتفاق کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے تاجروں اور برآمد کنندگان کو براہِ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام تجارتی رکاوٹوں میں کمی اور مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنائے گا۔
پاکستان اور ازبکستان نے انٹرریجنل فورم کے قیام کا معاہدہ بھی کیا ہے، جس کا مقصد وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس فورم کے ذریعے علاقائی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ٹیکسٹائل کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی معاہدہ طے پایا، جسے پاکستان کی صنعتی برآمدات کے لیے خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کان کنی اور جیوسائنسز کے شعبوں میں تعاون کے لیے بھی دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔
سیکیورٹی، انسدادِ منشیات اور قانونی تعاون کے معاہدے
دونوں ممالک نے سزا یافتہ افراد کے تبادلے کا معاہدہ بھی کیا ہے، جس سے قانونی تعاون کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس معاہدے کو دونوں ریاستوں کے درمیان اعتماد سازی کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
نشہ آور ادویات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے بھی پاکستان اور ازبکستان کے درمیان معاہدہ طے پایا، جس کا مقصد خطے میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنا اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنا ہے۔
دفاعی شعبے میں تعاون کے لیے ایکشن پلان پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کے تحت تربیت، مشاورت اور دفاعی روابط کو فروغ دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت علاقائی سلامتی کے تناظر میں اہمیت کی حامل ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا، جس سے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ادارہ جاتی اشتراک کو فروغ ملے گا۔
تعلیم، ٹیکنالوجی اور ثقافتی روابط میں وسعت
پاکستان اور ازبکستان نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس سے ڈیجیٹل معیشت اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
سائنسی، تعلیمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور تحقیق کے شعبوں میں بھی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے ثقافتی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے معاہدے کی دستاویزات کا تبادلہ کیا، جس کا مقصد عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینا ہے۔
غذائی تحفظ، زرعی تحقیق اور پلانٹ پروٹیکشن کے شعبوں میں تعاون کے معاہدے بھی طے پائے، جو دونوں ممالک کی زرعی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
میری ٹائم شعبے میں تعاون اور تجارت میں سہولت کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے، جس سے پاکستان کی بندرگاہوں کے ذریعے ازبکستان کی تجارتی رسائی میں اضافہ متوقع ہے۔
اعزازی ڈاکٹریٹ اور دوستی کی علامت
دریں اثنا، ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری اور پروفیسر شپ سے نوازا گیا۔ اس سلسلے میں وزیراعظم ہاؤس میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔
ریکٹر نسٹ نے بورڈ کے فیصلے کا اعلان کیا، شہباز شریف نے صدر شوکت مرزائیوف کو اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری پیش کی۔ ازبک صدر نے اعزازی ڈاکٹریٹ اور پروفیسر شپ کو اپنے لیے بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ ان کی زندگی کے یادگار لمحات میں شامل ہو گیا ہے۔









