پشاور کی تاریخ اور ثقافت

قلعوں سے موٹروے تک: پشاور کی جاوداں ثقافت اور ترقی کا نیا عہد

تحریر : حسین احمد

پشاور برصغیر کے اُن چند شہروں میں شامل ہے جہاں قدم رکھتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ وقت صرف گزرا نہیں، بلکہ ٹھہرا بھی ہے۔ خیبر پاس کے دہانے پر واقع یہ شہر صدیوں سے حملہ آوروں، تاجروں، صوفیوں اور مسافروں کا پہلا پڑاؤ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشاور محض ایک شہر نہیں بلکہ تہذیبوں کا سنگم، ثقافتوں کا ملاپ اور تاریخ کی زندہ دستاویز ہے۔ یہاں کی فضا میں گندھارا تہذیب کی گونج بھی سنائی دیتی ہے اور پختونولی کی غیرت و مہمان نوازی بھی پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہے۔

پشاور کی شناخت کئی پرتوں میں بٹی ہوئی ہے۔ یہ شہر کبھی بدھ مت کے پیروکاروں کا مرکز رہا، کبھی مغل سلطنت کا مضبوط قلعہ بنا، اور پھر برطانوی دور میں اسے “گیٹ وے آف انڈیا” کہا گیا۔ آزادی کے بعد پشاور نے سرحدی تجارت، افغان مہاجرین اور خطے کی سیاست کے اثرات کو اپنے دامن میں سمیٹا۔ آج یہی پشاور جدید انفراسٹرکچر، تعلیمی اداروں اور تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ ایک نئے عہد میں داخل ہو رہا ہے۔

گندھارا تہذیب کا گہوارہ

پشاور کی تاریخ کا سب سے درخشاں باب گندھارا تہذیب سے جڑا ہے۔ اگرچہ ٹیکسلا کو عموماً گندھارا کا مرکزی شہر سمجھا جاتا ہے، مگر پشاور اس تہذیب کا دل تھا۔ بدھ مت کے دور میں یہ شہر مذہبی، تعلیمی اور تجارتی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ پشاور میوزیم میں محفوظ بدھ مت کے نوادرات، مجسمے اور اسٹوپاز آج بھی اس عظیم ماضی کی گواہی دیتے ہیں۔

قدیم دستاویزات کے مطابق پشاور، جسے اس وقت “پُرش پور” کہا جاتا تھا، بدھ مت کے زائرین کے لیے ایک اہم مقام تھا۔ چین سے آنے والے سیاح فاہیان اور ہیون سانگ نے اپنی تحریروں میں اس شہر کا تفصیل سے ذکر کیا۔ یہ وہ دور تھا جب پشاور علم اور روحانیت کا مرکز سمجھا جاتا تھا، اور اس کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔

مغل دور میں اہمیت

مغل سلطنت کے قیام کے بعد پشاور کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی۔ بابر سے لے کر اکبر تک، مغل حکمرانوں نے پشاور کو شمال مغربی سرحد کے دفاع کے لیے ایک مضبوط قلعہ بنایا۔ قلعہ بالاحصار اسی دور کی یادگار ہے، جو آج بھی شہر کے تاریخی تشخص کی علامت ہے۔

مغل دور میں پشاور صرف فوجی مرکز نہیں بلکہ تجارتی گزرگاہ بھی تھا۔ وسط ایشیا سے آنے والا مال یہاں سے برصغیر کے دیگر حصوں میں جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں کاروان سرائے، بازار اور رہائشی بستیاں تیزی سے آباد ہوئیں۔

برطانوی دور اور “گیٹ وے” کا تصور

برطانوی راج کے دوران پشاور کو باضابطہ طور پر “گیٹ وے آف انڈیا” کہا جانے لگا۔ انگریزوں نے یہاں فوجی چھاؤنی قائم کی اور شہر کے نقشے میں نمایاں تبدیلیاں کیں۔ کشادہ سڑکیں، نئے انتظامی دفاتر اور رہائشی علاقے اسی دور کی پیداوار ہیں۔

ریلوے لائن کی آمد نے پشاور کو باقی ہندوستان سے جوڑ دیا، جس سے تجارتی اور عسکری اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔ تاہم، اس دور میں مقامی آبادی نے سامراجی دباؤ کا بھی سامنا کیا، جس کی جھلک تحریک آزادی میں پشاور کے فعال کردار سے ملتی ہے۔

آزادی کے بعد کا سفر

1947ء کے بعد پشاور پاکستان کا حصہ بنا اور خیبر پختونخوا کا دارالحکومت قرار پایا۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی قربت نے اسے بارڈر ٹریڈ کا مرکز بنایا۔ افغان مہاجرین کی آمد نے شہر کی آبادی، معیشت اور ثقافت پر گہرے اثرات ڈالے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں امن و امان کے مسائل کے باوجود پشاور نے لچک اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کیا۔ آج شہر ایک بار پھر ترقی، سیاحت اور ثقافتی سرگرمیوں کی طرف گامزن ہے۔ تاریخی عمارات کی مرمت، جدید تجارتی مراکز کی تعمیر اور ثقافتی میلوں کا انعقاد اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پشاور اپنی عظمت کو زندہ رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔

پشتونولی اور ذائقے

پختون ثقافت پشاور کی روح ہے، اور اس روح کا نام پختونولی ہے۔ ملمستیا یعنی مہمان نوازی، ناناواتی یعنی پناہ دینا، اور جرگہ سسٹم جیسے اصول آج بھی روزمرہ زندگی میں نظر آتے ہیں۔ یہ اقدار پشاور کو ایک مضبوط سماجی ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں۔

روایتی پوشاک اور کھانا

پیران، واسکٹ اور پشاوری چپل اس شہر کی شناخت ہیں۔ کھانوں میں چپلی کباب، ڈم پختو، شملہ کباب اور سووجی حلوہ خاص مقام رکھتے ہیں۔ پشاور کا کھانا سادہ مگر ذائقے سے بھرپور ہوتا ہے، جو مقامی مصالحوں اور روایات کا عکاس ہے۔

مقامی بازاروں میں تیار ہونے والے مصالحے اور پکوان نہ صرف پشاور بلکہ پورے ملک میں مشہور ہیں۔ ہر محفل اور تہوار میں یہ خوراک ایک لازمی جزو کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔

موسیقی اور رقص

رباب پشاور کی موسیقی کا مرکزی ساز ہے، جس کی دھنیں دل کو چھو لیتی ہیں۔ خٹک ڈانس کی جوشیلی حرکات اور مقامی گیت ثقافتی تقریبات کی جان ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ، جشن اور میلوں میں یہ روایتی موسیقی اور رقص شہری اور دیہی زندگی میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔

شہر کی تخلیقی پہچان

پشاور کی ادبی روایت صدیوں پر محیط ہے۔ رحمان بابا کا صوفیانہ کلام آج بھی دلوں کو گرما دیتا ہے، جبکہ خوشحال خان خٹک کی شاعری میں غیرت، فلسفہ اور جدوجہد کی جھلک ملتی ہے۔

عصری دور میں بھی پشتو اور اردو ادب میں پشاور کا کردار نمایاں ہے۔ یہاں سے تعلق رکھنے والے کئی ادیب اور شاعر قومی سطح پر پہچانے جاتے ہیں۔

فنکاروں کی فہرست میں بڈھا خاں، نزیر خاں، رشید خان، زریف خان اور دیگر نام شامل ہیں جنہوں نے موسیقی، فلم اور ثقافتی تقریبات میں شہر کا نام روشن کیا۔

کھیل، بازار اور جدید شہر

پشاور کو پولو کا تاریخی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ پشاور پولو کلب کی روایت شاہی دور سے جڑی ہے، اور آج بھی یہاں مقامی ٹورنامنٹس منعقد ہوتے ہیں۔

جدید کھیلوں میں کرکٹ کو خاص مقام حاصل ہے۔ پشاور زلمی نے پی ایس ایل میں شہر کی شناخت کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ فٹ بال، ہاکی اور دیگر کھیلوں میں نوجوانوں کی شرکت بڑھ رہی ہے، اور اس سے نہ صرف صحت بلکہ سماجی یکجہتی کو بھی فروغ ملتا ہے۔

پشاور کی ترقی اور مستقبل

پشاور میں تاریخی اور جدید تعمیرات کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ قلعہ بالاحصار، مہابت خان مسجد اور سیٹھی ہاؤس ماضی کی یاد دلاتے ہیں، جبکہ پشاور موٹروے، جدید ہوائی اڈہ اور بی آر ٹی نظام ترقی کی علامت ہیں۔

تعلیمی اداروں میں پشاور یونیورسٹی اور مختلف میڈیکل کالجز صوبے بھر کے طلبہ کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، جدید ہسپتال اور کلینک شہریوں کی سہولت کے لیے فعال ہیں۔

شہری منصوبہ بندی میں آبادی کا دباؤ اور ٹریفک جیسے چیلنجز موجود ہیں، مگر نئے منصوبے مستقبل کے لیے امید دلاتے ہیں۔

ماضی کی شان، مستقبل کی امید

پشاور ایک ایسا شہر ہے جس نے تاریخ کے ہر دور میں خود کو نئے سانچے میں ڈھالا۔ اس کی لچک، ثقافتی شناخت اور ترقی کی خواہش اسے پاکستان کے اہم شہروں میں منفرد مقام دیتی ہے۔

خیبر پاس سے ہوتی ہوئی چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبے پشاور کے مستقبل کو مزید روشن بنا سکتے ہیں۔ شہر میں سیاحت، تجارت، تعلیم اور ثقافت کے شعبے ترقی کے نئے امکانات فراہم کر رہے ہیں۔

1 thought on “قلعوں سے موٹروے تک: پشاور کی جاوداں ثقافت اور ترقی کا نیا عہد”

  1. Dr. Tasaddaq Qureshi

    بہت اعلیٰ بہت خوب …… اللہ کرے زور قلم اور زیاده

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top