تحریر: اعجاز عباسی
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ محض تبرکات اور روحانیت کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانی جسم اور روح کی تطہیر کا ایک ایسا جامع پروگرام ہے جو سال بھر کی غفلتوں کا ازالہ کرتا ہے۔ جب ہم رمضان اور ہماری صحت کی بات کرتے ہیں تو یہ محض بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ میٹابولزم کی ری سیٹنگ اور جسمانی نظام کی اوور ہالنگ کا نام ہے۔ جدید طبی تحقیقات، جن میں جاپانی سائنسدان یوشینوری اوسومی کی ‘آٹوفیجی’ (Autophagy) کی تحقیق سرِفہرست ہے، یہ ثابت کرتی ہے کہ روزہ انسانی خلیات کو کینسر جیسے امراض سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم ان تمام پہلوؤں کا احاطہ کریں گے جو ایک روزے دار کو صحت مند رکھنے، پیچیدہ امراض میں روزے کے انتظام اور ایک فعال سماجی زندگی گزارنے کے لیے درکار ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ اس رمضان کو آپ کے لیے محض روایتی نہیں بلکہ ایک ایسی طرزِ زندگی میں تبدیل کر دیں جو آپ کی جسمانی اور ذہنی توانائی کو عروج پر پہنچا دے۔
انسانی جسم پر روزے کے سائنسی اثرات
روزہ رکھنے کے عمل کا آغاز ہوتے ہی انسانی جسم اپنی توانائی کے ذخائر کو استعمال کرنے کے مروجہ طریقے تبدیل کر دیتا ہے جو کہ ایک حیرت انگیز حیاتیاتی عمل ہے۔ جب ہم سحری کے بعد خوراک سے دور ہوتے ہیں تو ابتدائی آٹھ گھنٹوں تک جسم گلوکوز کا استعمال کرتا ہے لیکن اس کے بعد ذخیرہ شدہ چربی پگھلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف وزن میں کمی کا باعث بنتا ہے بلکہ خون میں کولیسٹرول کی سطح کو متوازن کرنے اور دل کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق روزے کے دوران جگر کو آرام ملتا ہے اور زہریلے مادوں کے اخراج کا عمل تیز ہو جاتا ہے جس سے جلد میں نکھار اور مدافعتی نظام میں بہتری آتی ہے۔ رمضان اور ہماری صحت کا یہ پہلو اتنا طاقتور ہے کہ اگر اسے درست غذائی عادات کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ دائمی سوزش اور جوڑوں کے درد جیسے مسائل کا مستقل حل ثابت ہو سکتا ہے۔
سحری کی حکمت اور توانائی کا توازن
سحری رمضان المبارک کا وہ اہم ترین کھانا ہے جسے سنتِ نبویﷺ میں برکت کا باعث قرار دیا گیا ہے اور طبی نکتہ نظر سے یہ دن بھر کی توانائی کا واحد ذریعہ ہے۔ سحری میں ایسی غذاؤں کا انتخاب کرنا چاہیے جو خون میں شکر کی سطح کو اچانک بڑھانے کے بجائے آہستہ آہستہ توانائی فراہم کریں تاکہ نقاہت کا احساس نہ ہو۔ پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس جیسے کہ جو کا دلیہ، چکی کا آٹا اور دالیں سحری کے لیے بہترین انتخاب ہیں کیونکہ ان میں فائبر کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ دہی کا استعمال سحری میں پیاس کی شدت کو کم کرنے اور معدے کی تیزابیت کو روکنے کے لیے ایک مجرب نسخہ سمجھا جاتا ہے جسے ہر روزے دار کو اپنی غذا کا حصہ بنانا چاہیے۔ بہت سے لوگ سحری میں مرغن غذاؤں اور پراٹھوں کا سہارا لیتے ہیں جو نہ صرف ہاضمے کو خراب کرتے ہیں بلکہ پیاس کی طلب میں بھی اضافہ کر دیتے ہیں۔
افطاری میں اعتدال اور معدے کی حفاظت
دن بھر کے فاقے کے بعد جب افطار کا وقت آتا ہے تو انسانی نفس عموماً تلی ہوئی اور میٹھی چیزوں کی طرف راغب ہوتا ہے جو کہ صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ سنتِ رسولﷺ کے مطابق کھجور سے روزہ کھولنا ایک بہترین سائنسی عمل ہے کیونکہ کھجور فوری طور پر جسم کو وہ قدرتی شکر فراہم کرتی ہے جس کی اسے اشد ضرورت ہوتی ہے۔ افطار کے فوری بعد بہت زیادہ پانی پینا یا ٹھنڈے مشروبات کا بے دریغ استعمال معدے کے انزائمز کو سست کر دیتا ہے جس سے بدہضمی اور گیس کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ ماہرینِ خوراک کا مشورہ ہے کہ افطار میں پھلوں کی چاٹ اور ہلکی غذا کا استعمال کیا جائے اور نمازِ مغرب کے بعد باقاعدہ کھانا کھایا جائے تاکہ معدے پر اچانک بوجھ نہ پڑے۔ تلی ہوئی چیزیں جیسے سموسے اور پکوڑے اگرچہ افطار دسترخوان کی زینت ہوتے ہیں لیکن ان کا روزانہ استعمال دل کی شریانوں اور معدے کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
ہائیڈریشن کا انتظام اور پانی کی کمی
رمضان اور ہماری صحت کے حوالے سے سب سے بڑا چیلنج جسم میں پانی کی مقدار کو برقرار رکھنا ہے خصوصاً جب رمضان گرمیوں کے موسم میں یا طویل دنوں پر محیط ہو۔ افطار سے سحر تک کے مختصر وقفے میں آٹھ سے دس گلاس پانی پینا بظاہر مشکل لگتا ہے لیکن اسے وقفے وقفے سے تقسیم کر کے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ کیفین والے مشروبات جیسے چائے اور کافی کا زیادہ استعمال جسم سے پانی کے اخراج کو تیز کر دیتا ہے اس لیے ان سے گریز کرنا چاہیے تاکہ پیاس کم لگے۔ لیموں پانی، ناریل کا پانی اور کچی لسی ایسے مشروبات ہیں جو جسم میں الیکٹرولائٹس کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں اور دن بھر ترو تازہ رہنے میں مدد دیتے ہیں۔ پانی کی کمی کی وجہ سے گردوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور سر درد کی شکایت عام ہو جاتی ہے اس لیے پانی پینے کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔
ذیابیطس کے مریض اور روزے کے مسائل
ذیابیطس یا شوگر کے مریضوں کے لیے روزہ رکھنا ایک حساس طبی معاملہ ہے جس میں ڈاکٹر کی مشاورت اور خون میں شکر کی سطح کی مسلسل نگرانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ شوگر کے وہ مریض جن کی بیماری کنٹرول میں نہیں ہے یا جو ٹائپ ون ذیابیطس کا شکار ہیں انہیں روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے مکمل چیک اپ کروانا چاہیے۔ جدید طبی تحقیق کے مطابق اگر شوگر کے مریض سحری اور افطار میں اپنی ادویات کا شیڈول درست کر لیں اور نشاستہ دار غذاؤں سے پرہیز کریں تو وہ بحفاظت روزہ رکھ سکتے ہیں۔ دورانِ روزہ اگر کسی بھی وقت شوگر کی سطح 70 ملی گرام سے کم ہو جائے تو طبی طور پر روزہ توڑ دینا ضروری ہے کیونکہ یہ حالت جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ شوگر کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ سحری میں پروٹین کا زیادہ استعمال کریں اور افطار میں مصنوعی مٹھاس والے مشروبات سے مکمل پرہیز کریں تاکہ ان کی صحت مستحکم رہے۔
حمل اور رضاعت کے دوران روزے کی شرائط
حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے رمضان ایک ایسا وقت ہوتا ہے جہاں انہیں اپنی اور اپنے بچے کی صحت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ اگرچہ اسلام نے ان خواتین کو روزے کی قضا کرنے کی رعایت دی ہے لیکن بہت سی خواتین جذباتی لگاؤ کی وجہ سے روزہ رکھنا چاہتی ہیں جس کے لیے طبی اجازت لازمی ہے۔ حمل کے ابتدائی تین ماہ اور آخری مہینوں میں روزہ رکھنا بعض اوقات پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے اس لیے ماہرِ امراضِ نسواں سے مشورہ کیے بغیر قدم اٹھانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر حاملہ خاتون روزہ رکھے تو اسے سحری اور افطار میں کیلشیم، فولاد اور پروٹین کی وافر مقدار لینی چاہیے تاکہ بچے کی نشوونما متاثر نہ ہو۔ دورانِ روزہ اگر چکر آنے، شدید کمزوری یا بچے کی حرکت میں کمی محسوس ہو تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنی چاہیے اور روزے کو طول نہیں دینا چاہیے۔
بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں احتیاط
دل کے مریضوں اور ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کے لیے رمضان اور ہماری صحت کا پہلو بہت اہم ہے کیونکہ نمک کا استعمال اور ادویات کا وقت ان کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بلڈ پریشر کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ افطاری میں نمکین مشروبات اور تلی ہوئی چیزوں سے دور رہیں کیونکہ نمک خون کے دباؤ کو اچانک بڑھا سکتا ہے۔ دل کے مریض اپنی ادویات کا وقت سحر اور افطار میں ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ایڈجسٹ کریں اور زیادہ محنت طلب کاموں سے گریز کریں تاکہ دل پر بوجھ نہ پڑے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزہ بذاتِ خود دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ یہ وزن کم کرنے اور تناؤ کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے بشرطیکہ غذا متوازن ہو۔ اگر کسی مریض کو سینے میں درد یا سانس لینے میں تکلیف محسوس ہو تو اسے فوری طور پر روزہ افطار کر کے قریبی ہسپتال سے رجوع کرنا چاہیے۔
رمضان اور فعال سماجی زندگی کا توازن
رمضان المبارک میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ سست ہو جاتے ہیں اور ان کی سماجی و کاروباری زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے جو کہ روزے کے حقیقی تصور کے منافی ہے۔ ایک متوازن سماجی زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے کاموں کو صبح کے اوقات میں مکمل کر لیں جب جسم میں توانائی کی سطح نسبتاً بہتر ہوتی ہے۔ دفتر اور کاروبار میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور صبر کا داہمن تھامنا روزے کی اصل روح ہے جو ہمیں ڈسپلن اور برداشت سکھاتی ہے۔ سماجی رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے افطار ڈنر ایک اچھا ذریعہ ہیں لیکن یہاں بھی اسراف اور بسیار خوری سے بچنا چاہیے تاکہ عبادت کے لیے وقت اور ہمت باقی رہے۔ رمضان ہمیں وقت کی قدر سکھاتا ہے اور اگر ہم اپنے روزمرہ کے معمولات کو عبادت کے ساتھ ترتیب دے دیں تو ہم ایک انتہائی فعال اور کامیاب سماجی زندگی گزار سکتے ہیں۔
ذہنی صحت اور روحانی سکون کا تعلق
رمضان صرف جسم کی نہیں بلکہ ذہن کی بھی صفائی کا مہینہ ہے جہاں ہم تناؤ اور اضطراب سے چھٹکارا حاصل کر کے حقیقی روحانی سکون پاتے ہیں۔ روزے کے دوران جب ہم اپنی خواہشات پر قابو پاتے ہیں تو اس سے ہماری قوتِ ارادی مضبوط ہوتی ہے جو ذہنی صحت کے لیے ایک بہترین ورزش ہے۔ تلاوتِ قرآن اور نمازوں کی پابندی دماغ کو وہ سکون فراہم کرتی ہے جو کسی بھی مہنگی تھراپی یا دوا سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق اجتماعی طور پر عبادات میں حصہ لینے سے تنہائی کا احساس ختم ہوتا ہے اور انسان کے اندر ہمدردی و سخاوت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ رمضان اور ہماری صحت کا یہ پہلو اتنا گہرا ہے کہ یہ ڈپریشن اور بے چینی کے مریضوں کے لیے ایک قدرتی علاج کی حیثیت رکھتا ہے جسے پوری توجہ سے اپنانا چاہیے۔
ورزش اور جسمانی سرگرمیوں کا شیڈول
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ روزے کی حالت میں ورزش کرنا ممکن نہیں ہے حالانکہ یہ ایک غلط فہمی ہے اور ہلکی پھلکی ورزش جسمانی لچک برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ورزش کے لیے بہترین وقت افطار سے ایک گھنٹہ پہلے یا افطار کے دو گھنٹے بعد کا ہے جب جسم کو توانائی مل چکی ہوتی ہے۔ جم جانے والے افراد کو چاہیے کہ وہ رمضان میں اپنی ورزش کی شدت کو 50 فیصد تک کم کر دیں تاکہ پٹھوں پر زیادہ بوجھ نہ پڑے اور پانی کی کمی نہ ہو۔ یوگا اور پیدل چلنا رمضان کے دوران بہترین جسمانی سرگرمیاں ہیں جو دورانِ خون کو بہتر بناتی ہیں اور دماغ کو آکسیجن فراہم کرتی ہیں۔ اگر آپ سحری سے پہلے تھوڑی دیر کے لیے ہلکی ورزش کر سکیں تو یہ پورے دن کے میٹابولزم کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور آپ کو سستی محسوس نہیں ہوگی۔
نیند کی کمی اور وقت کی مینجمنٹ
رمضان میں نیند کا شیڈول اکثر متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے دن بھر کام پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور سر درد کی شکایت رہتی ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ رات کو جلدی سونے کی عادت ڈالی جائے اور سحری کے بعد اگر ممکن ہو تو تھوڑی دیر کے لیے قیلولہ کیا جائے تاکہ نیند کا دورانیہ پورا ہو۔ انسانی دماغ کو فعال رہنے کے لیے کم از کم چھ سے سات گھنٹے کی نیند درکار ہوتی ہے اور رمضان میں اسے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے پورا کیا جا سکتا ہے۔ نیند کی کمی نہ صرف چڑچڑے پن کا باعث بنتی ہے بلکہ یہ بھوک کے ہارمونز کو بھی متاثر کرتی ہے جس سے روزے کے دوران زیادہ بھوک محسوس ہوتی ہے۔ وقت کی بہتر مینجمنٹ کے لیے ایک ڈائری کا استعمال کریں جہاں آپ اپنی عبادات اور دفتری کاموں کو وقت کے لحاظ سے تقسیم کر سکیں تاکہ کسی بھی چیز میں خلل نہ پڑے۔
رمضان اور وزن میں کمی کا سنہری موقع
اگر آپ وزن کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو رمضان المبارک سے بہتر کوئی وقت نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ قدرتی طور پر ایک ‘انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ’ کا پروگرام ہے۔ وزن میں کمی کے لیے شرط یہ ہے کہ آپ افطاری میں چکنائی اور میٹھی چیزوں سے مکمل پرہیز کریں اور اپنی خوراک میں پروٹین اور سبزیوں کا استعمال بڑھا دیں۔ بہت سے لوگ رمضان میں وزن کم کرنے کے بجائے بڑھا لیتے ہیں کیونکہ وہ سحری اور افطاری میں ضرورت سے زیادہ حرارے (Calories) استعمال کر لیتے ہیں۔ وزن کم کرنے کے لیے سحری میں ایک پیالہ دہی اور افطار میں ابلا ہوا چکن یا مچھلی مع سلاد ایک بہترین ڈائٹ پلان ثابت ہو سکتا ہے۔ باقاعدگی سے تراویح کی نماز ادا کرنا بھی ایک بہترین جسمانی ورزش ہے جو کیلوریز جلانے میں مدد دیتی ہے اور آپ کو چست رکھتی ہے۔
بچوں کے روزے اور ان کی تربیت
بچوں کو روزے کی طرف راغب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی جسمانی استطاعت کو مدِ نظر رکھا جائے اور ان پر زبردستی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ تربیت کے لیے بچوں کو ‘چڑی روزہ’ یا آدھے دن کا روزہ رکھوایا جا سکتا ہے تاکہ ان میں صبر اور بھوک برداشت کرنے کا احساس پیدا ہو۔ بچوں کی سحری اور افطاری میں دودھ، پھلوں اور ایسی غذاؤں کا انتخاب کریں جو ان کی بڑھتی ہوئی عمر کی نشوونما کے لیے ضروری ہوں اور انہیں کمزوری نہ ہونے دیں۔ انہیں روزے کے صرف بھوکا رہنے والے پہلو کے بجائے اس کی اخلاقی اور روحانی اہمیت کے بارے میں کہانیاں سنائیں تاکہ ان کے اندر اس مہینے کی محبت پیدا ہو۔ بچوں کو افطار دسترخوان سجانے اور خیرات تقسیم کرنے میں شامل کریں تاکہ وہ سماجی ذمہ داریوں کو بھی سمجھ سکیں۔
رمضان کے آخری عشرے کی تیاری اور عید
رمضان کا آخری عشرہ عبادات کے لحاظ سے انتہائی اہم ہوتا ہے جس میں اعتکاف اور لیلۃ القدر جیسی عظیم نعمتیں چھپی ہوتی ہیں جن کے لیے جسمانی توانائی برقرار رکھنا لازمی ہے۔ ان دنوں میں نیند اور خوراک کا خاص خیال رکھیں تاکہ آپ راتوں کو جاگ کر عبادت کر سکیں اور تھکاوٹ آپ کے ارادوں پر غالب نہ آئے۔ اعتکاف میں بیٹھنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ سادہ اور زود ہضم غذا کا انتخاب کریں تاکہ وہ ترو تازہ رہ سکیں اور ان کی توجہ عبادت پر مرکوز رہے۔ عید الفطر کے دن اچانک بہت زیادہ کھانا پینا معدے کے لیے صدمے کا باعث بن سکتا ہے اس لیے عید کے دن بھی اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ رمضان کی ان تمام طبی اور روحانی مشقوں کا مقصد ہمیں ایک ایسا انسان بنانا ہے جو پورا سال نظم و ضبط اور صحت مند اصولوں کے تحت زندگی گزار سکے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ رمضان المبارک محض سال کے بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ نہیں، بلکہ یہ اپنی جسمانی اور روحانی جلا وطنی کو ختم کر کے ایک نئی اور توانا زندگی کی طرف لوٹنے کا نام ہے۔ اگر ہم اس مقدّس مہینے میں اپنی صحت، غذا اور سماجی رویوں کو ان خطوط پر استوار کر لیں جو جدید طب اور اسلامی تعلیمات نے ہمیں سکھائے ہیں، تو ہم عید کے دن نہ صرف روحانی طور پر پاکیزہ ہوں گے بلکہ جسمانی طور پر بھی ایک نئی توانائی سے بھرپور ہوں گے۔ صحت اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جس کی قدر کرنا ہم پر فرض ہے، اور رمضان ہمیں اسی نعمت کی حفاظت کا عملی درس دیتا ہے۔ آئیے عہد کریں کہ اس بار ہم اپنی سحری و افطاری کو محض روایتی پکوانوں تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ اسے اپنی صحت اور تندرستی کا ذریعہ بنائیں گے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا آپ نے اس رمضان کے لیے اپنا کوئی خاص ڈائٹ یا فٹنس پلان تیار کیا ہے؟ یا آپ کو روزے کے دوران صحت کے حوالے سے کن مسائل کا سامنا رہتا ہے؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے اور تجربات سے ہمیں ضرور آگاہ کریں، آپ کا ایک مشورہ کسی دوسرے روزے دار کے لیے آسانی پیدا کر سکتا ہے۔ اگر آپ کو یہ معلوماتی تحریر پسند آئی ہے، تو اسے اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ شیئر کرنا نہ بھولیں تاکہ وہ بھی ایک صحت مند رمضان گزار سکیں۔









