ریاض میں سکیورٹی حکام کی جانب سے وزٹ ویزے کی مدت سے زائد قیام یعنی اوور اسٹے پر سخت انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اگر کسی وزیٹر نے اپنی مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود سعودی عرب میں قیام جاری رکھا اور اس کی اطلاع متعلقہ اداروں کو نہ دی گئی تو ذمہ داران کے خلاف بھاری جرمانہ اور قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد اقامہ، سرحدی امن اور امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے تاکہ غیر قانونی قیام کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی پبلک سکیورٹی نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں واضح کیا ہے کہ وزٹ ویزے پر آنے والے افراد کی مدت ختم ہونے کے بعد اگر وہ ملک میں موجود رہیں تو ان کی بروقت اطلاع دینا ضروری ہے۔ اعلامیے میں شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ قانون شکنی میں کسی بھی قسم کے تعاون سے گریز کریں، بصورت دیگر وہ خود بھی قانونی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس خلاف ورزی پر 50 ہزار سعودی ریال تک جرمانہ اور چھ ماہ تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اوور اسٹے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ متعلقہ ادارے جدید نگرانی نظام کے ذریعے ویزہ ریکارڈ کی مسلسل جانچ کر رہے ہیں۔
سکیورٹی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر خلاف ورزی کرنے والا کوئی مقیم غیر ملکی ہو اور وہ اوور اسٹے کرنے والے وزیٹر کی رپورٹ نہ کرے تو اسے ملک بدری کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے تمام رہائشیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر کفالت یا زیر میزبانی افراد کی قانونی حیثیت کی باقاعدہ نگرانی کریں۔
سخت قانونی کارروائی کی وارننگ
مزید برآں سعودی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس کی جانب سے جاری حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ایک ماہ کے دوران اقامہ، ملازمت اور سرحدی امن قوانین کی خلاف ورزی پر 19 ہزار 559 فیصلے صادر کیے گئے۔ ان فیصلوں میں قید، جرمانے اور بے دخلی جیسی سزائیں شامل ہیں، جو قوانین کی سنگین نوعیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
حکام کے مطابق سعودی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں دونوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔ یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ کوئی بھی فرد اگر غیر قانونی قیام، غیر مجاز روزگار یا سرحدی ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث پایا گیا تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
اعلامیے میں شہریوں اور رہائشیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو ٹرانسپورٹ، رہائش، ملازمت یا کسی بھی قسم کی سہولت فراہم نہ کریں جو اقامہ یا ویزہ قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہو۔ پردہ پوشی یا سہولت کاری کو بھی جرم تصور کیا جائے گا اور اس پر علیحدہ سزا مقرر ہے۔
سعودی حکام کے اس حالیہ انتباہ کو ماہرین امیگریشن قوانین کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزٹ ویزے پر آنے والے افراد کو اپنی قیام کی مدت ختم ہونے سے قبل خروج یا توسیع کے قانونی تقاضے مکمل کرنا لازمی ہے، بصورت دیگر سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔









