تحریر: ساجد حسین
سٹریٹجک آئل ذخائر کتنے اور کہاں موجود ہیں، یہ سوال اس وقت عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹ نے دنیا بھر کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسٹریٹجک آئل ذخائر کتنے اور کہاں ہیں، اسی بحث کے تناظر میں بڑے ممالک نے اپنے ہنگامی ذخائر کھولنے شروع کر دیے ہیں تاکہ عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھا جا سکے اور قیمتوں کو بے قابو ہونے سے روکا جا سکے۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے رکن ممالک نے حالیہ بحران کے پیش نظر 40 کروڑ بیرل تیل اپنے سٹریٹجک ذخائر سے جاری کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا، جو اس ادارے کی تاریخ کا سب سے بڑا اقدام تصور کیا جا رہا۔ اس فیصلے کا مقصد عالمی سپلائی کو سہارا دینا اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو روکنا، کیونکہ توانائی کا بحران براہ راست عالمی معیشت پر اثر انداز ہوتا۔
عالمی صورتحال اس وقت اس قدر نازک ہو چکی ہے کہ توانائی کی فراہمی کو صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی (geopolitical) چیلنج بھی سمجھا جا رہا ہے۔ تیل کی ترسیل میں معمولی رکاوٹ بھی عالمی مارکیٹس کو متاثر کر دیتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ممالک اپنے ہنگامی ذخائر کو ایک سٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
عالمی سپلائی بحران اور آبنائے ہرمز کی اہمیت
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ وہ اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی (LNG) کی ترسیل ہوتی ہے، اور اس کی بندش کا مطلب عالمی منڈی میں فوری بحران ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس صورتحال کے باعث برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو اس سے قبل تقریباً 65 ڈالر کے قریب تھی۔ قیمتوں میں اس تیزی نے نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ ترقی یافتہ معیشتوں کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے، کیونکہ توانائی ہر شعبے کی بنیاد ہے۔
اسی دوران خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور کویت نے بھی اپنی پیداوار میں کمی کی، جس سے سپلائی مزید محدود ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر میں توانائی بحران کے خدشات بڑھ گئے اور ممالک کو اپنے ذخائر استعمال کرنے پڑے۔

سٹریٹجک آئل ذخائر کیا ہوتے ہیں؟
سٹریٹجک آئل ذخائر دراصل خام تیل کے وہ ہنگامی ذخائر ہوتے ہیں جو حکومتیں غیر معمولی حالات جیسے جنگ، قدرتی آفات یا معاشی بحران کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔ یہ ذخائر عموماً زیر زمین ٹینکوں، غاروں یا مخصوص تنصیبات میں رکھے جاتے ہیں تاکہ طویل عرصے تک محفوظ رہ سکیں۔
ان ذخائر کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر عالمی سپلائی میں رکاوٹ آئے تو حکومت فوری طور پر مارکیٹ میں تیل فراہم کر کے قیمتوں کو کنٹرول کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک اپنے پاس کم از کم 90 دن کی درآمدی ضروریات کے برابر تیل ذخیرہ رکھتے ہیں۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (International Energy Agency) کے مطابق اس کے رکن ممالک کے پاس مجموعی طور پر 1.2 ارب بیرل سے زائد سرکاری تیل ذخائر موجود، جبکہ نجی کمپنیوں کے پاس بھی تقریباً 60 کروڑ بیرل اضافی ذخیرہ موجود، جو ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکتا۔

چین: سب سے بڑا مگر غیر شفاف ذخیرہ رکھنے والا ملک
چین دنیا کا سب سے بڑا سٹریٹجک آئل ذخیرہ رکھنے والا ملک سمجھا جاتا ہے، اگرچہ وہ اس حوالے سے مکمل اعداد و شمار جاری نہیں کرتا۔ چین نے 2004 میں اپنے قومی اسٹریٹجک ذخائر کا پروگرام شروع کیا تھا تاکہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے اثرات سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق چین کے پاس تقریباً 1.13 ارب بیرل تک خام تیل موجود ہو سکتا ہے، جو اسے دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھنے والا ملک بناتا ہے۔ یہ ذخائر زیادہ تر اس کے مشرقی اور جنوبی ساحلی علاقوں میں واقع ہیں، جہاں بڑی بڑی ذخیرہ گاہیں قائم کی گئی ہیں۔
چین کی پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ اپنی توانائی ضروریات کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل تیل خریدتا رہے، چاہے عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں یا زیادہ۔ یہی حکمت عملی اسے موجودہ بحران میں ایک مضبوط پوزیشن فراہم کرتی ہے۔
امریکہ: دنیا کا منظم ترین سٹریٹجک ذخیرہ
امریکہ کے پاس دنیا کے سب سے منظم اور شفاف سٹریٹجک آئل ذخائر میں سے ایک موجود ہے۔ یہاں تقریباً 415 ملین بیرل تیل محفوظ کیا گیا ہے، جسے United States Department of Energy (امریکی محکمہ توانائی) کنٹرول کرتا ہے۔
امریکہ نے یہ ذخیرہ 1975 میں عرب آئل ایمبارگو کے بعد قائم کیا تھا، جب تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور معیشت کو بڑا جھٹکا لگا۔ اس کے بعد سے یہ ذخائر امریکی توانائی پالیسی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
امریکہ روزانہ تقریباً 4.4 ملین بیرل تیل مارکیٹ میں جاری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو عالمی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ حالیہ بحران میں بھی امریکہ نے اپنے ذخائر سے لاکھوں بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جاپان: درآمدی انحصار کے باوجود مضبوط حکمت عملی
جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو اپنی توانائی کے لیے مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اسی لیے اس نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر کو بہت مضبوط بنایا ہے۔ جاپان کے پاس تقریباً 470 ملین بیرل تیل موجود ہے، جو 250 دن سے زائد کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
جاپان نے 1978 میں اپنے ذخائر کا نظام قائم کیا تھا، اور آج اس کے پاس سرکاری، نجی اور مشترکہ ذخائر کا ایک متوازن نظام موجود ہے۔ یہ حکمت عملی اسے عالمی بحران کے دوران بھی مستحکم رکھتی ہے۔
یورپ: مشترکہ حکمت عملی اور متوازن ذخائر
یورپی ممالک جیسے جرمنی، فرانس، اسپین اور اٹلی بھی اپنے اپنے سٹریٹجک ذخائر رکھتے ہیں۔ جرمنی کے پاس تقریباً 177 ملین بیرل، فرانس کے پاس 120 ملین بیرل، جبکہ اسپین اور اٹلی کے پاس بھی بڑے ذخائر موجود ہیں۔
یورپی یونین (European Union) کے ممالک عام طور پر مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرتے ہیں، جس کے تحت بحران کے وقت وہ ایک دوسرے کے ساتھ وسائل شیئر کرتے ہیں۔ یہ تعاون انہیں توانائی کے بحران سے بہتر انداز میں نمٹنے کے قابل بناتا ہے۔
برطانیہ: نجی شعبے کے ذریعے ذخیرہ
برطانیہ کا ماڈل کچھ مختلف ہے، جہاں سٹریٹجک ذخائر زیادہ تر نجی کمپنیوں کے پاس ہوتے ہیں مگر حکومت ان کی نگرانی کرتی ہے۔ برطانیہ کے پاس تقریباً 68 ملین بیرل تیل اور ریفائنڈ مصنوعات موجود ہیں، جو تقریباً 90 دن تک کافی ہوتے ہیں۔
یہ نظام حکومت کو لچک فراہم کرتا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر مارکیٹ میں تیل فراہم کر سکے، جبکہ نجی شعبہ اس کے انتظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پاکستان میں بھی توانائی کی صورتحال مسلسل دباؤ کا شکار ہے، جہاں عالمی قیمتوں اور درآمدی انحصار کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بار بار تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ پاکستان اپنے تیل کے محدود ذخائر اور زیادہ تر درآمدات پر انحصار کی وجہ سے عالمی منڈی میں ہونے والی ہر بڑی تبدیلی کا براہِ راست اثر محسوس کرتا ہے، جس سے مقامی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے حالیہ دنوں میں ہائی اوکٹین پٹرول پر لیوی میں دو سو روپے فی لٹر اضافہ کیا ہے، جو پہلے سو روپے تھی، اس طرح ایک لٹر پر مجموعی لیوی تین سو روپے ہونے کے بعد ہائی اوکٹین کی قیمت 534 روپے فی لٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل بھی حکومت نے پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں کم از کم پچپن روپے فی لٹر اضافہ کیا تھا، جس کے باعث عوام پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار تھے۔
ادھر عالمی سطح پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی جانب سے ایرانی پاور تنصیبات کو پانچ دن تک نشانہ نہ بنانے کے حکم کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دس فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت 88.34 ڈالر فی بیرل اور برطانوی خام تیل کی قیمت 101.49 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں وقتی ریلیف دیکھنے میں آیا۔

کیا یہ ذخائر عالمی بحران کو روک سکتے ہیں؟
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ سٹریٹجک آئل ذخائر کتنے اور کہاں ہیں (strategic oil reserves by country) کے باوجود کیا دنیا ایک طویل بحران کا سامنا کر سکتی ہے؟ ماہرین کے مطابق یہ ذخائر وقتی ریلیف فراہم کرتے ہیں، مگر اگر سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہے تو یہ بھی ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں یہ ذخائر قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور مارکیٹ میں استحکام لانے میں مدد دے رہے ہیں، مگر اصل حل سیاسی کشیدگی کے خاتمے اور سپلائی چین کی بحالی میں ہی موجود ہے۔
توانائی کی عالمی معیشت میں اہمیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب تیل صرف ایک ایندھن نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ہتھیار بن چکا ہے۔ جو ممالک زیادہ ذخائر رکھتے ہیں، وہ بحران کے وقت زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہوتے ہیں۔
موجودہ بحران نے دنیا کو یہ سبق دیا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف تیزی سے جانا ضروری ہے۔ قابل تجدید توانائی (renewable energy) جیسے شمسی اور ہوائی توانائی مستقبل میں اس طرح کے بحرانوں سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔
تاہم جب تک دنیا تیل پر انحصار کرتی رہے گی، سٹریٹجک آئل ذخائر کی اہمیت برقرار رہے گی۔ یہی ذخائر مستقبل میں بھی عالمی معیشت کو سہارا دینے کا ذریعہ بنیں گے۔









