امریکی سینٹ نے ایران پر فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینٹ نے ایران پر فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد مسترد کر دی

واشنگٹن: امریکی سینٹ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر حملے روکنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کی قرارداد کو 52 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے مسترد کر دیا ہے۔ قرارداد میں مطالبہ تھا کہ ایران پر کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل کانگریس کی منظوری لی جائے، لیکن سینیٹرز کی اکثریت نے اسے منظور نہیں کیا۔

قرارداد کو پیش کرنے والے سینیٹرز دونوں بڑی سیاسی جماعتوں — ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز — سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے اس اقدام کا مقصد ممکنہ فوجی تصادم سے بچنا بتایا تھا۔ تاہم ری پبلکن اکثریت اور بعض ڈیموکریٹس نے قرارداد کی حمایت نہیں کی جس کے نتیجے میں یہ مسترد ہو گئی۔

امریکی سینیٹ کے مجموعی 100 ارکان میں ری پبلکنز کے 53، ڈیموکریٹس کے 45 اور 2 آزاد سینیٹرز ہیں، جن میں سے کچھ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ قرارداد کی مخالفت کرنے والے سینیٹرز نے دلیل دی کہ موجودہ قومی سلامتی کے خدشات کے تناظر میں صدر کو زیادہ لچکدار طاقت استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں گزشتہ برسوں میں تناؤ بڑھا ہے، خاص طور پر 2018 میں امریکہ کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے علیحدگی کے بعد سے۔ اس جدوجہد نے مشرق وسطیٰ میں سیکورٹی صورتحال کو چیلنج کیا، اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے متعدد واقعات دیکھے گئے ہیں۔

سینیٹ میں قرارداد اور سیاسی تناظر

کانگریس کے مقتدر حصے کے طور پر سینیٹ کی یہ کارروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قانون ساز ادارہ صدر کے صدارتی اختیارات پر سخت نظر رکھنا چاہتا ہے، خاص طور پر فوجی کارروائیوں کے معاملات میں۔ کچھ رائے دہندگان نے کہا ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی طاقت استعمال کرنا آئین کے اصولوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب، قرارداد کی مخالفت کرنے والے ارکان کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو اپنے اتحادیوں اور قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لیے فوری رد عمل کا اختیار ہونا چاہیے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی تناؤ کی صورت میں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top