امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کالعدم قرار

امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کالعدم قرار

واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ صدر کی جانب سے کانگریس کی منظوری کے بغیر عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرنا آئینی تقاضوں سے متصادم ہے۔ اس فیصلے کو امریکی سیاست اور تجارتی پالیسی میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے اثرات مستقبل کی صدارتی پالیسیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے فیصلہ سنایا۔ عدالت کی سربراہی چیف جسٹس John Roberts کر رہے تھے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ صدر کو اس نوعیت کے غیر معمولی اختیارات استعمال کرنے کے لیے کانگریس کی واضح اجازت درکار ہوتی ہے۔ عدالت کے مطابق اس معاملے میں ایسی کوئی واضح قانونی منظوری موجود نہیں تھی۔

کانگریس کی منظوری کیوں ضروری قرار دی گئی؟

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ صدر نے یکطرفہ طور پر لامحدود مقدار، مدت اور دائرہ کار کے ٹیرف نافذ کرنے کا اختیار اپنے لیے تصور کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے تحت ٹیکس اور تجارتی پالیسی سے متعلق بنیادی اختیارات کانگریس کے پاس ہوتے ہیں۔ اگر صدر کو ہنگامی اختیارات بھی حاصل ہوں تو ان کی حدود متعین ہوتی ہیں۔ اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو قانونی جواز فراہم نہیں کیا جا سکا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ جس ہنگامی اختیار کا سہارا لے کر یہ اقدامات کیے گئے وہ اس نوعیت کے عالمی اور وسیع اطلاق کے لیے ناکافی تھا۔ ججوں نے رائے دی کہ ایگزیکٹو اختیارات کو غیر معینہ مدت تک استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات آئینی جانچ پر پورا نہیں اترتے۔

ٹرمپ حکومت کے لیے بڑا دھچکا

یہ فیصلہ سابق صدر Donald Trump کی دوسری حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی اور قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے انتظامیہ اور کانگریس کے درمیان اختیارات کی حد بندی مزید واضح ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد مستقبل میں کسی بھی صدر کے لیے یکطرفہ تجارتی اقدامات کرنا آسان نہیں رہے گا۔

قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ نہ صرف تجارتی پالیسی بلکہ صدارتی اختیارات کے دائرہ کار کے تعین میں بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی آئینی نظام میں توازن اور نگرانی کے اصول کو مضبوط کرتا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے اثرات عالمی تجارتی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top