آسکر جیتنا میرے کیریئر کیلئے اچھا ثابت نہیں ہوا، میلیسا لیو

لاس اینجلس : ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ میلیسا لیو نے اپنے کیریئر کے سب سے بڑے اعزاز، اکیڈمی ایوارڈ (آسکر) سے متعلق ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ آسکر جیتنا ان کے لیے اور ان کے کیریئر کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوا۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کو دیے گئے انٹرویو میں 65 سالہ اداکارہ نے کہا کہ انہوں نے کبھی آسکر جیتنے کا خواب نہیں دیکھا تھا اور ان کا کیریئر اس اعزاز سے پہلے زیادہ بہتر تھا۔

میلیسا لیو نے 2011 میں فلم The Fighter میں شاندار اداکاری پر بہترین معاون اداکارہ کا آسکر جیتا تھا۔ اس فلم میں ان کے ساتھ مارک وہلبرگ، ایمی ایڈمز اور کرسچین بیل جیسے بڑے اداکار شامل تھے۔ فلم کو نا صرف تنقیدی پذیرائی ملی بلکہ اس نے انہیں متعدد ایوارڈز بھی دلوائے، تاہم لیو کے مطابق آسکر جیتنے کے بعد ان کے لیے کرداروں کے انتخاب میں مشکلات پیدا ہو گئیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ آسکر جیتنے کے لمحے میں وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور اس موقع پر ان سے غیر مناسب الفاظ بھی ادا ہو گئے، جس پر وہ آج بھی نادم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پورا ہالی ووڈ ان کے سامنے موجود تھا اور یہ لمحہ ذہنی طور پر انتہائی دباؤ والا تھا۔ ان کے مطابق شہرت اور بڑے اعزاز بعض اوقات انسان کو الجھن میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

میلیسا لیو نے مزید کہا کہ The Fighter کے بعد انہیں زیادہ تر منفی اور عمر رسیدہ کرداروں کی پیشکش کی گئی، جو وہ اب مزید نہیں کرنا چاہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کرداروں کا انتخاب خود نہیں کرتیں بلکہ کردار خود انہیں منتخب کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ میلیسا لیو جلد ہی ہدایتکار آندرے اووریڈل کی آنے والی فلم Passenger میں جلوہ گر ہوں گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top