اسلام آباد: پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے درمیان 257 ملین ڈالر مالیت کے دو بڑے ترقیاتی منصوبوں کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن کا مقصد پنجاب میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پائیدار بہتری لانا ہے۔ وزارتِ اقتصادی امور کے ترجمان کے مطابق یہ پروگرامز صوبے میں نظامی اصلاحات اور سماجی ترقی کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔
ترجمان نے بتایا کہ اے ڈی بی نے پنجاب میں 107 ملین ڈالر مالیت کا ایس ٹی ای ایم ایجوکیشن پروگرام منظور کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت صوبے کے مختلف سکولوں میں جدید ایس ٹی ای ایم لیبز قائم کی جائیں گی، جبکہ اساتذہ کو جدید تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ سیکنڈری تعلیم کے معیار میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔ پروگرام کا مقصد طلبہ کو مستقبل کی سائنسی و تکنیکی ضروریات کے مطابق تیار کرنا ہے۔
نرسنگ اور ہیلتھ ورک فورس کیلئے 150 ملین ڈالر منظور
ترجمان کے مطابق اے ڈی بی نے 150 ملین ڈالر کی فنڈنگ کے ذریعے پنجاب میں نرسنگ اور ہیلتھ ورک فورس ریفارم پروگرام کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس پروگرام کے تحت لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں نرسنگ کے تین سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کیے جائیں گے، جو صحت کے شعبے میں مہارت، تربیت اور استعداد کار میں نمایاں اضافہ کریں گے۔ یہ منصوبہ صوبے میں ہیلتھ سروسز کے معیار کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب میں سیکرٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم اور اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے باضابطہ طور پر معاہدوں پر دستخط کیے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے سیکرٹری اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ نے بھی معاہدوں پر دستخط کیے، جس کے ساتھ یہ منصوبے عملی مراحل میں داخل ہو گئے۔
اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کے مطابق دونوں پروگرام “نتائج پر مبنی” ہیں اور صوبے میں جاری اصلاحاتی سلسلے کا اہم حصہ ہیں۔ ان منصوبوں کے ذریعے پنجاب کی نوجوان نسل کو بہتر تعلیمی مواقع اور صحت کے شعبے میں مضبوط پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا سکے گی۔








