برازیلیا : برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی ہے کہ برازیلی مصنوعات پر عائد اضافی 40 فیصد ٹیرف پر مذاکرات کے دوران عمل درآمد روک دیا جائے۔برازیل کے نائب صدر اور وزیر برائے ترقی، صنعت، تجارت اور خدمات جیرالڈو الکمن نے بتایا کہ صدر نے یہ درخواست مذاکرات کے تسلسل کے لیے کی ہے اور اس ضمن میں ہمیں صبر و انتظار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی ٹیرف میں کمی کے فیصلے کے بعد برازیل اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔
ابتدائی طور پر یہ ٹیرف تقریباً 4 ہزار مصنوعات پر لاگو تھا، جن پر مجموعی طور پر 50 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔ جیرالڈو الکمن نے واضح کیا کہ جب صدر ٹرمپ نے اس ایگزیکٹو آرڈر کو نافذ کیا تو برازیل کی 37 فیصد برآمدات اضافی 40 فیصد ٹیرف کے دائرے میں آ گئی تھیں، جس کے ساتھ 10 فیصد بنیادی ٹیرف بھی شامل تھا۔
بعد ازاں، یہ شرح کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدائی ٹیرف میں شامل مصنوعات میں تقریباً ایک تہائی کمی واقع ہوئی۔ الکمن نے مزید بتایا کہ اب برازیل کی 51 فیصد برآمدات یا تو صفر فیصد یا 10 فیصد ٹیرف کے تحت آتی ہیں، جبکہ 27 فیصد برآمدات سیکشن 232 کے تحت ہیں، جو دیگر مسابقتی ممالک پر عائد ٹیرف کے قریب تر ہے۔
یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم رکھنے اور برازیل کی برآمدات پر غیر ضروری بوجھ سے بچانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔








