واشنگٹن، پیرس، روم (سی این پی) امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے کے خلاف امریکی شہروں سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین نے امریکی فوجی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے وینزویلا کی خودمختاری کی حمایت کا اعلان کیا۔
واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میں وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کو حراست میں لینے کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں شرکا نے صدر ٹرمپ کے خلاف نعرے لگائے اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکا کو کسی خودمختار ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شکاگو سمیت متعدد امریکی شہروں میں عوامی مظاہرے ہوئے، جہاں شرکا نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کہا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کو ان اقدامات پر قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔
واشنگٹن اور پورٹ لینڈ جیسے شہروں میں احتجاجی پروگرام باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت منعقد ہوئے، جن میں امریکا کی بیرونی مداخلت کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکا کو وینزویلا سمیت کسی بھی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔
مظاہرین کا صدر ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اعلان کیا ہے کہ امریکا وینزویلا پر اثر و رسوخ قائم رکھے گا اور وہاں عبوری انتظام چلایا جائے گا، جبکہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک میں عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
ادھر نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں مظاہرین نے ریلی نکالی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح پیرس میں بائیں بازو کے مظاہرین نے وینزویلا پر امریکی حملوں کی مذمت کی اور وینزویلا کے جھنڈے لہرائے۔
وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے خلاف یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا، جبکہ روم میں بھی اطالوی شہریوں نے وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن کے خلاف احتجاج کیا۔ اس کے علاوہ ارجنٹائن اور کولمبیا میں بھی امریکی جارحیت کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔








