زہران ممدانی: نیویارک کی سیاست میں نئی صبح

تحریر: ساجد حسین

دنیا کے سب سے بڑے اور مصروف شہر نیویارک نے ایک بار پھر تاریخ رقم کی ہے۔ اس بار کہانی کسی کاروباری دیو، فلمی ستارے یا قدآور سیاست دان کی نہیں بلکہ ایک نوجوان، باہمت اور نظریاتی رہنما زہران ممدانی کی ہے۔
یہ وہ نام ہے جس نے نہ صرف نیویارک کے عوام کے دل جیتے بلکہ امریکی سیاست میں ایک نئی روح پھونک دی۔ محض چونتیس برس کی عمر میں وہ نیویارک کے پہلے مسلمان میئر بنے، اور ایک صدی میں سب سے کم عمر رہنما کے طور پر شہر کے سب سے بڑے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کی کامیابی کسی حادثے یا خوش قسمتی کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی عوامی جدوجہد، فکری بلوغت اور اصولی سیاست کی عکاسی ہے۔

علم و شعور کی گود میں پرورش

زہران ممدانی کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جس میں علم، فن اور فکر ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ ان کے والد محمود ممدانی یوگندا کے ممتاز استاد اور سماجی محقق ہیں، جب کہ والدہ میرا نائر وہی نام ہیں جنہوں نے بھارتی سینما کو بین الاقوامی پہچان دی۔
زہران کا جنم یوگندا میں ہوا، بچپن جنوبی افریقہ میں گزرا اور جوانی نیویارک کی گلیوں میں پروان چڑھی۔ یہی کثیرالثقافتی تجربہ ان کی سوچ میں وہ وسعت لے کر آیا جو آج انہیں ایک عالمی دماغ اور مقامی رہنما بناتی ہے۔ تعلیم انہوں نے امریکہ کے معروف ادارے باؤڈون کالج سے حاصل کی جہاں انہوں نے افریقن مطالعات میں ڈگری لی۔ یہیں سے ان میں سیاسی اور سماجی شعور نے جنم لیا۔

سیاست کی طرف پہلا قدم

زہران ممدانی نے سیاست میں قدم رکھتے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ طاقت کے مراکز نہیں، عوام کے مفادات کے قریب رہیں گے۔ 2020 میں انہوں نے نیویارک ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا۔
یہ مقابلہ ان کے لیے پہلا امتحان تھا، لیکن ان کی عوامی سوچ اور ایماندار لہجے نے انہیں کامیاب کر دیا۔ انہوں نے ایک متوسط طبقے کے علاقے آسٹوریا (کوئنز) سے کامیابی حاصل کی۔ وہ خود کو عوامی نمائندہ کہنا پسند کرتے ہیں، سیاست دان نہیں۔ ان کے نزدیک سیاست ذاتی شہرت نہیں بلکہ اجتماعی خدمت کا نام ہے۔

عوامی منشور کی بنیاد

زہران ممدانی کی سیاست کا محور ایک سادہ مگر طاقتور نعرہ ہے۔ ”یہ شہر عوام کا ہے۔”
ان کا کہنا ہے کہ نیویارک، جسے دنیا خوابوں کا شہر کہتی ہے، اب امیروں کا قلعہ بن چکا ہے۔ عام آدمی کے لیے یہاں رہائش ایک خواب اور سفر ایک آزمائش بن چکا ہے۔ اسی احساس نے ان کی مہم کو ایک عوامی تحریک میں بدل دیا۔
انہوں نے کرایہ کنٹرول، مفت بسوں، اور عوامی بجٹ کی تجاویز پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام سے ٹیکس وصول کیے جا سکتے ہیں، تو عوام کو سہولتیں دینا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

رہائش: انسان کا حق

نیویارک میں کرایہ داروں کا مسئلہ برسوں سے سنگین رہا ہے۔ زہران نے اپنے منشور میں واضح کیا کہ “رہائش انسان کا بنیادی حق ہے، تجارتی چیز نہیں”۔ انہوں نے کرایوں کی حد مقرر کرنے اور بے دخلی سے پاک شہر کے قیام کا وعدہ کیا۔
یہ نعرہ نیویارک کے لاکھوں مکینوں کے دل میں اتر گیا۔ ان کی مہم نے ان گنت کرایہ دار تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا۔ یہی وہ موقع تھا جب ایک نظریاتی مہم عوامی سیلاب میں بدل گئی۔

ٹرانسپورٹ اور روزگار کا وژن

زہران ممدانی نے اپنے منشور میں یہ جملہ بار بار دہرایا ”اگر شہر چلتا ہے تو عوام کے دم سے، نہ کہ کارپوریٹ کمپنیوں سے۔”
انہوں نے وعدہ کیا کہ نیویارک میں بسوں اور ٹرینوں کا کرایہ ختم کیا جائے گا تاکہ محنت کش طبقے پر بوجھ کم ہو۔ ان کے نزدیک نقل و حرکت کی آزادی، شہری آزادی کا حصہ ہے۔
اسی طرح روزگار کے معاملے میں انہوں نے ماحول دوست منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی کا خاکہ پیش کیا۔ “سبز روزگار” پروگرام ان کے انتخابی منشور کی نمایاں شق تھی، جس کا مقصد ماحولیاتی منصوبوں میں لاکھوں نئی ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔

بجٹ پر عوامی کنٹرول

زہران نے عوامی بجٹ کا تصور دیا یعنی شہر کے فنڈز کہاں خرچ ہوں، یہ فیصلہ عوام کی مشاورت سے کیا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ہر ضلع میں شہری کمیٹیاں قائم کی جائیں گی جو اپنے علاقے کے منصوبے خود تجویز کریں گی۔ اس نظریے نے ان کے مخالفین کو بھی دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا کیونکہ پہلی بار کسی رہنما نے اقتدار کو بانٹنے کی بات کی۔

پولیس اصلاحات اور سماجی انصاف

زہران ممدانی نے واضح طور پر کہا کہ امن بندوق سے نہیں، انصاف سے آتا ہے۔
انہوں نے پولیس کے بجٹ میں کٹوتی اور سماجی خدمات میں اضافے کی تجویز دی۔ ان کے نزدیک جرم کا علاج سختی سے نہیں بلکہ مواقع فراہم کرنے سے ہوتا ہے۔ ان کے اس موقف نے شہری تنظیموں، اساتذہ، اور نوجوانوں کی بھرپور حمایت حاصل کی۔

تعلیم اور صحت کا خواب

زہران ممدانی نے اپنی مہم میں تعلیم اور صحت کو بنیادی انسانی حقوق قرار دیا۔
انہوں نے وعدہ کیا کہ نیویارک کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ اور سہولیات بہتر کی جائیں گی۔ اسی طرح انہوں نے کم آمدنی والے شہریوں کے لیے مفت علاج کی فراہمی کا عزم کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ صحت اور تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے، خیرات نہیں۔

ایک نظریاتی مگر حقیقت پسند رہنما

زہران ممدانی خود کو “عوامی سوشلسٹ” کہتے ہیں۔ ان کے ناقدین نے انہیں بارہا “کمیونسٹ” کہہ کر بدنام کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے ہر بار دلیل اور کردار سے جواب دیا۔
ان کی سوشلسٹ سوچ دراصل انسانی وقار اور برابری کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب دولت اور طاقت چند ہاتھوں میں سمٹ جائے تو جمہوریت کمزور ہو جاتی ہے۔

عوامی مہم کا منفرد انداز

ان کی مہم روایتی جلسوں اور اشتہارات سے ہٹ کر تھی۔ نوجوانوں نے ان کے لیے گھر گھر جا کر پمفلٹ تقسیم کیے، چھتوں پر بینرز لگائے، اور سماجی رابطوں پر ”زہران کا شہر” مہم چلائی۔
ان کا ہر جلسہ ایک عوامی اجتماع کی طرح لگتا تھا جہاں گفتگو میں طنز، جذبہ اور امید تینوں کا امتزاج نظر آتا۔ یہی وہ انداز تھا جس نے نیویارک کے نوجوانوں، طلبہ، محنت کشوں اور تارکینِ وطن کو یکجا کر دیا۔

جیت کی گھڑی اور تاریخی لمحہ

چار نومبر 2025 کو جب نیویارک کے نتائج سامنے آئے تو عالمی میڈیا میں ایک ہی خبر چھائی ہوئی تھی
”زہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب”
یہ صرف ایک سیاسی خبر نہیں بلکہ ایک نئی سوچ کا آغاز تھا۔
ایک ایسے ملک میں جہاں مسلمانوں کو اکثر شکوک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، وہاں ایک مسلمان نوجوان کا سب سے بڑے شہری منصب پر پہنچنا امید کی نئی کرن ہے۔

نوجوانوں اور اقلیتوں کی فتح

زہران ممدانی کی کامیابی دراصل نیویارک کے عام شہریوں، اقلیتوں، مہاجر خاندانوں، اور نوجوانوں کی جیت ہے۔
ان کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر کوئی سیاست دان ایمانداری سے عوام کے مسائل کو اپنی زبان بنائے تو طاقتور طبقے بھی پسپا ہو جاتے ہیں۔
ان کے جلسوں میں مختلف مذاہب، نسلوں اور زبانوں کے لوگ ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے تھے — یہی نیویارک کی اصل تصویر ہے جسے زہران نے سیاست کا حصہ بنایا۔

نئے دور کی سیاست

زہران ممدانی کی کامیابی سے امریکی سیاست میں ایک نیا رجحان ابھرا ہے۔ وہ طبقاتی تفاوت، امارت و غربت کے تضاد اور عوامی حقوق پر مبنی بیانیہ لے کر آئے ہیں۔
ان کی میئری صرف نیویارک کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کے اُن نوجوانوں کے لیے مثال ہے جو نظام بدلنے کا خواب دیکھتے ہیں مگر وسائل نہ ہونے کے سبب مایوس ہو جاتے ہیں۔

چیلنجز اور امکانات

اب ان کے سامنے ایک بڑا امتحان ہے۔ نیویارک جیسا شہر چلانا آسان کام نہیں۔ بجٹ کے مسائل، کرایہ داروں کا دباؤ، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، پولیس نظام اور وفاقی حکومت سے تعلقات، یہ سب چیلنجز ان کے منتظر ہیں۔
مگر زہران نے کہا ہے، ہم ناممکن کو ممکن بنائیں گے، کیونکہ عوام کی امید سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر وہ اپنے وعدوں پر عمل کر گئے تو نیویارک واقعی ایک نئے دور میں داخل ہو گا۔

مسلم دنیا کے لیے پیغام

زہران ممدانی کی جیت مسلمان نوجوانوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ ایمان، تعلیم اور اصولی سیاست اگر یکجا ہوں تو دیواریں گر سکتی ہیں۔
انہوں نے ثابت کیا کہ سیاست صرف طاقت کا کھیل نہیں، خدمت کا راستہ بھی ہو سکتی ہے۔ ان کی جیت اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب مذہب یا نسل نہیں، کردار اور کارکردگی سے متاثر ہوتی ہے۔

نیویارک میں نئی صبح

زہران ممدانی کی کامیابی ایک واقعہ نہیں بلکہ علامت ہے اس امید کی کہ سیاست اب سرمایہ داروں سے نکل کر عوام کے ہاتھ میں واپس آ رہی ہے۔ ان کا سفر بتاتا ہے کہ ایک خواب اگر عوامی امنگ سے جڑ جائے تو تاریخ بدل دیتا ہے۔
نیویارک کے باسیوں نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا کہ تبدیلی ممکن ہے، اگر قیادت ایماندار ہو، نیت صاف ہو، اور منزل عوام کی خدمت ہو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top