اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (اے ایس آئیز) کی سینیارٹی سے متعلق اہم مقدمے میں سندھ سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے حکومتِ سندھ کی جانب سے دائر سول اپیلیں مسترد کر دیں۔
سپریم کورٹ کی جانب سے ہفتہ کو رپورٹنگ کے لیے جاری کردہ تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ مقدمے کا بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا 1990 میں ابتدائی طور پر تعینات پولیس افسران کی سینیارٹی ان کی پہلی تقرری سے شمار ہوگی یا 1991-92 میں مبینہ تازہ تقرری کی تاریخ سے۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق متاثرہ پولیس افسران کو مارچ 1990 میں سندھ پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، تاہم فروری 1991 میں سیاسی بنیادوں پر تقرری کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ بعد ازاں ان افسران کو انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کے 3 جنوری 1994 کے نوٹیفکیشن کے تحت بحال کر دیا گیا، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ انہیں مالی فوائد نہیں ملیں گے لیکن ان کی سینیارٹی 1990 سے ہی برقرار رہے گی۔
سپریم کورٹ نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بحالی کا قانونی مفہوم یہی ہے کہ ملازم کو اس کی سابقہ حیثیت، بشمول سینیارٹی، کے ساتھ بحال کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ 2019 میں جاری کی گئی نئی سینیارٹی لسٹ کے ذریعے افسران کی سینیارٹی بغیر شوکاز نوٹس اور سماعت کے ختم کرنا آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ سماعت کے حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سینیارٹی ایک قیمتی حق ہے جو ملازم کے کیریئر، ترقی اور مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے، اس لیے اس میں تبدیلی صرف قانون اور قواعد کے مطابق ہی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے سندھ سروس ٹریبونل کی اس ہدایت کو درست قرار دیا کہ متاثرہ افسران کی سینیارٹی 12 اپریل 2019 سے پہلے والی حیثیت میں بحال کی جائے اور انہیں قانون کے مطابق ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
سپریم کورٹ نے حکومتِ سندھ کی جانب سے دائر سول اپیلیں (C.A. 53-K تا 55-K/2024) مسترد کر دیں، جبکہ دیگر اپیلیں (C.A. 56-K تا 58-K/2024) وکیل کے بیان کی روشنی میں نمٹا دی گئیں۔ عدالتی فیصلے کو پولیس سروس میں سینیارٹی اور بحالی کے حوالے سے ایک اہم نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔








