وینزویلا پر امریکی حملہ، صدر مادورو اہلیہ سمیت گرفتار

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے وینزویلا میں ایک “کامیاب اور فیصلہ کن” فوجی کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں صدر مادورو کو حراست میں لے لیا گیا۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ 1989 میں پانامہ پر امریکی حملے کے بعد لاطینی امریکا میں امریکا کی سب سے براہِ راست فوجی مداخلت ہو گی، جس کا مقصد اُس وقت کے فوجی حکمران مینوئل نوریگا کو اقتدار سے ہٹانا تھا۔ تاہم تاحال وینزویلا کی حکومت یا سرکاری اداروں کی جانب سے امریکی صدر کے اس دعوے کی کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

واضح رہے کہ امریکا ماضی میں بھی صدر نکولس مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ، ریاست کو “نارکو اسٹیٹ” بنانے اور انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، جنہیں مادورو مسترد کرتے ہوئے یہ مؤقف اپناتے رہے ہیں کہ واشنگٹن وینزویلا کے وسیع تیل ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، جو دنیا کے بڑے ذخائر میں شمار ہوتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top