چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے واضح کیا ہے کہ عدالتی نظام کی مضبوطی، انصاف تک تیز رفتار رسائی، ڈیجیٹل اصلاحات اور عوامی اعتماد کا فروغ عدلیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، مؤثر پالیسی سازی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے مقدمات کے بروقت فیصلوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق چیف جسٹس ان خیالات کا اظہار سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے 56ویں اجلاس کی صدارت کے دوران کر رہے تھے۔ اجلاس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس شریک ہوئے، جبکہ چیف جسٹس فیڈرل آئینی عدالت پاکستان جسٹس امین الدین خان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
اجلاس میں 55ویں اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور عدالتی نظام میں بہتری، انصاف کی مؤثر فراہمی اور ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ کمیٹی نے جبری گمشدگیوں کے مقدمات سے متعلق فورم پر حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اٹارنی جنرل پاکستان آئندہ اجلاس میں زیرِ حراست افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کیے جانے سے متعلق شکایات کے حل کے لیے جامع طریقہ کار پیش کریں گے۔
ذیلی کمیٹی کی سفارشات متفقہ طور پر منظور
تجارتی، ریونیو اور مالیاتی مقدمات میں تاخیر کے خاتمے کے لیے ذیلی کمیٹی کی سفارشات متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔ ان سفارشات میں خصوصی بینچز کا قیام، غیر ضروری مقدمہ بازی کی روک تھام، ایف بی آر میں اسکریننگ کمیٹی کا قیام اور ٹریبونلز کی کارکردگی میں بہتری شامل ہے۔ ان اقدامات پر عملدرآمد کے لیے لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کو ایف بی آر سے رابطے کی ہدایت دی گئی۔
کمیٹی نے گزشتہ سہ ماہی کے دوران مقررہ مدت میں 5 لاکھ 58 ہزار 474 مقدمات نمٹانے پر ہائی کورٹس کی کارکردگی کو سراہا۔ لاہور ہائی کورٹ نے 4 لاکھ 65 ہزار 455 مقدمات نمٹا کر نمایاں کارکردگی دکھائی، جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے وراثتی مقدمات اور ڈبل ڈوکٹ نظام کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا گیا۔ مقررہ ٹائم لائنز پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت بھی کی گئی۔
ہائی کورٹس میں قائم ماڈل ٹرائل کورٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بتایا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے دیوانی اور فوجداری دونوں اقسام میں سب سے زیادہ مقدمات نمٹائے۔ ضلعی عدلیہ اصلاحات سے متعلق کمیٹی کو 30 دن میں سفارشات حتمی شکل دینے کی ہدایت دی گئی، جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اس سلسلے میں اجلاس بلانے کا کہا گیا۔
ضلعی عدالتوں میں ای فائلنگ کے فوری آغاز کی منظوری
اجلاس میں ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں عوام کے لیے مؤثر اور سہل شکایات کے نظام کے قیام کو سراہا گیا۔ صوبائی چیف جسٹس کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر قانون سازی، پالیسی اور انتظامی اقدامات پر پیش رفت کی ہدایت کی گئی، جس کا جائزہ آئندہ اجلاس میں لیا جائے گا۔
نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق تیار کردہ مسودہ رہنما اصول ہائی کورٹس کو رائے کے لیے بھجوانے اور 30 دن میں حتمی منظوری کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تمام ضلعی عدالتوں میں ای فائلنگ کے فوری آغاز کی منظوری دی گئی، جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے اقدامات کو سراہا گیا۔
عدالتی کمپلیکسز میں ون ونڈو فیملی اور خواتین سہولت مراکز کے قیام کی اصولی منظوری بھی دی گئی، جسے حکومتی فنڈز سے مشروط کیا گیا۔ مختلف منصوبوں کے لیے 2 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد فنڈز کے اجرا پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بروقت اور مؤثر استعمال کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عدلیہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر عوام کو فوری، شفاف اور معیاری انصاف فراہم کرے گی، جبکہ ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے عوامی اعتماد کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔








