اب امن کی اپیلیں ہوں گی نہ وفد کابل جائیں گے،خواجہ آصف

اسلام آباد:  وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے افغان طالبان کی حکومت کو بھارت کی پراکسی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان، بھارت اور ٹی ٹی پی نے مل کر پاکستان پر جنگ مسلط کی ہے لیکن اب کابل کے ساتھ تعلقات پر ماضی کی طرح متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔جمعہ کوانہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں طالبان کے 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں امن اور افغانستان سے دراندازی روکنے کے لیے حکومت کی کوششوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ 2021 سے لے کر اب تک 3 ہزار 844 شہادتیں ہوئیں جس میں سول، فوجی، قانون نافذ کرنے والے ادارے سب شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران ‏دہشت گردی کے 10 ہزار 347 واقعات ہوئے، ‏ 5سال میں ہماری کوششوں اور قربانیوں کے باوجود کابل سے مثبت ردعمل نہیں آیا اور اب افغانستان بھارت کی پراکسی بن گیا ہے۔وزیردفاع نے کہا کہ یہ دہشت گردی کی جنگ بھارت، افغانستان اور ٹی ٹی پی نے مل کر پاکستان پر مسلط کی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کابل کے حکمران جو اب بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، کل تک ہماری پناہ میں تھے، ہماری زمین پر چھپتے پھرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اب کابل کے ساتھ تعلقات کا ماضی کی طرح متحمل نہیں ہو سکتا، پاک سر زمین پر بیٹھے تمام افغانوں کو اپنے وطن واپس جانا ہو گا

اب کابل میں ان کی اپنی حکومت یا خلافت ہے، ۔خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہمسایوں کی طرح رہنا ہوگا، ہماری سر زمین اور وسائل 25کروڑ پاکستانیوں کی ملکیت ہیں، پانچ دہائیوں کی زبردستی کی مہمان نوازی کے خاتمے کا وقت ہے، ‏خودار قومیں بے گانی سر زمین اور وسائل پر نہیں پلتیں اور اب احتجاجی مراسلے، امن کی اپیلیں نہیں ہوں گی اور کابل وفد نہیں جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا منبع جہاں بھی ہوگا اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top